سمیع االلہ ملک(دوسری قسط)
مگراس بیچ ایک اورپہلوبھی ہے:تجارت کی بندراہیں،معیشت کی رکی ہوئی سانسیں،اورعوامی اضطراب۔جب سرحدی گزرگاہیں بندہوتی ہیں توبارودسے زیادہ نقصان روٹی کوپہنچتاہے۔معاشی تنگی سماجی بے چینی کوجنم دیتی ہے،اوریہی بے چینی شدت پسندی کیلئے نرم زمین بن سکتی ہے۔گزشتہ کئی ماہ سے اس نئی صورت حال میں سب سے بڑا سوال عسکری نہیں بلکہ معاشی اورانسانی ہے۔سرحدی گزرگاہوں کی مکمل بندش،تجارت کی معطلی،ایندھن اورخوراک کی قلت، بیانات تند اورپاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ ہوتاجارہاہے۔یہ سب جنگ کے وہ پہلوہیں جوگولی سے زیادہ دیرپازخم دیتے ہیں۔پاک۔افغان تجارت جوکبھی اربوں ڈالرتک پہنچتی رہی،اب تقریباًمنجمد ہے۔سرحدی آبادیوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے،اورمہاجرین کے ایک نئے ریلے کاخدشہ سراٹھارہاہے۔یوں عسکری کشیدگی معاشی بحران کواورمعاشی بحران عسکریت کوجنم دیتاہے۔سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کب تک اس کشیدگی کابوجھ اٹھاسکتے ہیں؟کیامکالمے کی کوئی کھڑکی ابھی باقی ہے،یاتاریخ ایک بارپھررجیم چینجکے پرانے نسخے کودہرانے کی طرف بڑھ رہی ہے؟
ادھرپاکستان اپنے آپ کودہشتگردی کے مقابل ایک حصارقراردیتاہے۔پاکستان کے مطابق خطرہ صرف کوئٹہ یالاہورتک محدودنہیں بلکہ اس کی پرچھائیں مغربی دارالحکومتوں تک پھیل سکتی ہیں۔اس مقف کی تقویت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان رپورٹس سے بھی ہوتی ہے جن میں افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کاذکرملتاہے،جن میں القاعدہ کانام بھی شامل ہے۔چین،ایران، تاجکستان اورازبکستان جیسے ممالک کی تشویش اس امرکی دلیل ہے کہ معاملہ سرحدی کشمکش سے بڑھ کرعلاقائی استحکام کاسوال بن چکاہے۔
پاکستان خودکوفرنٹ لائن اسٹیٹ قراردیتاہے یعنی وہ دیوارجس پرپہلی ضرب پڑتی ہے۔دیواروالااستعارہ دراصل2001کے بعدکی پاکستانی حکمتِ عملی کی توسیع ہے،جب پاکستان نے خودکو دہشتگردی کیخلاف جنگ میں اولین مورچہ قراردیاتھا۔یہ بیانیہ عالمی ہمدردی اورمعاونت حاصل کرنے کاذریعہ بھی ہے کیونکہ جودیوار گرتی ہے،اس کے ملبے تلے سب دب سکتے ہیں۔یعنی پاکستان دہشتگردی کے خلاف عالمی حصارہے۔ان کاکہناہے کہ خطرہ صرف مقامی شہروں تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی سلامتی سے جڑا ہواہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ نے افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جن میں القاعدہ بھی شامل ہے۔ہمسایہ ممالک تاجکستان، ایران ،ازبکستان اورچین سب تشویش میں مبتلا ہیں۔یہ وہ لمحہ ہے جب علاقائی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری بن جاتی ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس میں دولتِ اسلامیہ خراسان اورالقاعدہ کی موجودگی کی تصدیق علاقائی ممالک کے خدشات کوتقویت دیتی ہے۔سلامتی کونسل کی رپورٹ میں اس علاقائی اضطراب کے واضح ذکرنے خطے میں کشیدگی کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ چین کوسنکیانگ کے تناظرمیں،ایران کوسرحدی سلامتی کے حوالے سے،اور تاجکستان کوغیر ملکی جنگجوں کی نقل وحرکت پرتشویش ہے۔یہ مسئلہ اب محض پاک۔افغان تنازع نہیں رہا،بلکہ وسطی وجنوبی ایشیا کی مشترکہ سلامتی کاسوال بن چکاہے۔اس صورتِ حال پرچین، ایران،تاجکستان اورازبکستان سمیت متعدد ممالک تشویش کااظہارکر چکے ہیں۔
عالمی منظرنامے پربھی اس جنگ کے اثرات نمایاں ہوسکتے ہیں۔دنیا پہلے ہی یوکرین اورمشرقِ وسطی کے تنازعات میں الجھی ہوئی ہے اوراب توخطے میں ایران پرامریکی واسرائیلی حملوں نے مزیدتشویش پیداکردی ہے۔افغانستان عالمی ایجنڈے پرپیچھے چلاگیاہے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کونظراندازکرنے کی قیمت ہمیشہ زیادہ چکانی پڑی ہے چاہے وہ سوویت مداخلت ہویابعدازاں امریکی حملہ۔اب اگرپاک۔افغان جنگ طول پکڑتی ہے تویہ خطہ ایک بارپھرعالمی طاقتوں کی توجہ کامرکزبن سکتاہے۔
افغانستان عالمی ایجنڈے پرپیچھے چلاگیاہے۔لیکن تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کونظرانداز کرنے کی قیمت ہمیشہ زیادہ چکانی پڑی ہے چاہے وہ سوویت مداخلت ہویابعدازاں امریکی حملہ۔پاکستان دہشتگردوں اوردنیاکے مابین ایک دیوارہے۔لیکن دیواریں اگرمسلسل ضرب سہتی رہیں توان میں دراڑیں پڑہی جاتی ہیں۔ہدف صرف کوئٹہ یالاہورنہیں،بلکہ لندن اورنیویارک تک پھیلاہواہے۔شدت پسندی سرحدی پٹیوں سے نکل کرشہری مراکزتک پہنچ چکی ہے،جس سے پاکستان کی برداشت کم ہوتی جارہی ہے۔ریاستی ادارے اسے وجودی چیلنج کے طورپردیکھ رہے ہیں۔
شام کے محاذ کے سرد ہونے کے بعدمشرقِ وسطیٰ کے جنگجوافغانستان کارخ کررہے ہیں۔عالمی سیاست اس وقت دیگرتنازعات میں الجھی ہوئی ہے،جس کے باعث افغانستان عالمی ترجیحات میں پیچھے چلاگیاہے۔یعنی دنیااس وقت روس۔یوکرین تنازع اورایران۔امریکا کشیدگی میں الجھی ہوئی ہے،مگرافغانستان کی خاموش آندھی کسی بڑے طوفان کاپیش خیمہ بن سکتی ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق اس بحران کونظراندازکرنامستقبل میں بڑے خطرات کودعوت دے سکتا ہے۔
وزیردفاع خواجہ محمد آصف کے بیانات سے پہلے ہی یہ تاثرابھراتھاکہ اگرکابل کی موجودہ انتظامیہ عالمی ذمہ داریوں کوپورانہ کرے تو متبادل امکانات پرغورکیاجاسکتاہے۔مگراب جنگ کے آغازنے اس بحث کومزیدپیچیدہ بنادیاہے۔تاہم کئی سفارتی حلقے اس حکمتِ عملی کو پرخطرقراردیتے ہیں۔رجیم چینج کاتصورکاغذپرجتناآسان دکھائی دیتاہے،زمینی حقائق میں اتناہی پرخطرثابت ہوتاہے۔عراق،لیبیااورخود افغانستان کی تاریخ اس کی مثال ہے۔تاہم فوجی کارروائی مسئلے کاحل نہیں؛بیک چینل ڈپلومیسی ہی کشیدگی کم کرسکتی ہے جس کیلئے ایسے افرادکی ضرورت ہے جوامت مسلمہ کادرداوران دونوں فریقوں کے درمیان قابل احترام اوراثرونفوذرکھنے والے سمجھے جاتے ہوں۔
پاک افغان تعلقات کے ماہرین کے مطابق یقیناافغانستان میں غیرملکی جنگجوموجودہیں،مگر فوجی کارروائی مسئلے کامستقل حل نہیں۔وہ بیک چینل ڈپلومیسیکوناگزیرقراردیتے ہیں کیونکہ توپ کی گھن گرج سے زیادہ دیرپااثرکبھی کبھی خاموش مکالمہ ڈال جاتاہے۔لیکن یہاں بھارت کے مکارانہ سازشی زاویہ اورعلاقائی شطرنج کوسمجھنا بھی اہم ہے کہ اب یہ شواہد کے ساتھ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بھارت افغان سرزمین سے پاکستان مخالف عناصرکی مددکرتاہے،جس کی بھارت تردیدتوکرتاہے لیکن پاکستان کی طرف سے دئیے گئے ٹھوس شواہدکیخلاف کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہے۔بھارت کی یہ مکارانہ سازش خطے کوپراکسی سیاست کی طرف دھکیل رہی ہے،جہاں براہِ راست جنگ کی بجائے بالواسطہ محاذ آرائی کے امکانات بڑھ رہے ہیں جودوایٹمی قوتوں کے ردعمل میں ساری دنیاکیلئے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔
پاکستان کی برداشت اب آخری حدوں کوچھورہی ہے،کیونکہ شدت پسندی سرحدی علاقوں سے نکل کردارالحکومت تک پہنچ چکی ہے۔ پاکستان استحکام چاہتاہے اوراس سلسلے میں چین کی جانب دیکھ رہاہے گویامشرق کی سفارت کاری سے مغرب کی بے چینی کا تدارک چاہتاہوجبکہ دوسری طرف افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے داعش قیدیوں اورشدت پسند قیدیوں کی حوالگی کامطالبہ کیا،جسے پاکستان نے مستردکردیا۔اس معاملے نے دونوں ملکوں کے مابین اعتمادکی فضااورسفارتی تناؤکومزیدمتاثرکیاہے۔پاکستان کامؤقف ہے کہ ایساکوئی معاہدہ موجودنہیں۔قیدیوں کاتبادلہ بین الاقوامی قانون اوردوطرفہ معاہدات کاتقاضاکرتاہے،محض بیانات کا نہیں۔
فی الوقت سفارتی اورتجارتی تعلقات منجمدہیں۔پاکستان کامؤقف ہے کہ مذاکرات میں ثبوت پیش کیے گئے،مگر کابل مسئلے کے وجود ہی کوتسلیم کرنے پرآمادہ نہیںاورجب مرض کااقرارنہ ہوتوعلاج کی راہ کیسے نکلے؟یادرہے کہ سفارتی وتجارتی روابط کی معطلی نے عوامی سطح پربھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔طویل جموددونوں معاشروں میں بداعتمادی کوگہراکرسکتاہے۔سفارتی ذرائع کے مطابق عسکری راستہ دیرپااستحکام فراہم نہیں کرتا۔ان کے مطابق پسِ پردہ مذاکرات اورعلاقائی تعاون ہی کشیدگی کم کرنے کامؤثرذریعہ ہو سکتے ہیں۔بنیادی سوال یہ ہے کہ کیادونوں ریاستیں طاقت کیاستعمال سے آگے بڑھ کراعتمادسازی اورمکالمے کی راہ اختیارکرسکتی ہیں؟تاریخ کا سبق یہی ہے کہ پائیدارامن توپ کے دہانے سے نہیں بلکہ تدبر،صبراورسیاسی بصیرت سے جنم لیتاہے۔
اسی تناظر میںحکومت کی تبدیلی کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے۔وزیر دفاع کے بیان اوردیگر سرکاری مؤقف سے یہ تاثرضرور ابھراکہ پاکستان افغانستان میں حکومت کی تبدیلی چاہتاہے اوراس تاثرکو تقویت ملی کہ اگرکابل میں موجودانتظامیہ عالمی ذمہ داریوں کو پورانہ کرے تومتبادل راستے تلاش کیے جاسکتے ہیں۔مگرمبصرین خبردارکرتے ہیں کہ رجیم چینج کانسخہ اکثرزخم کوگہراکردیتاہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ طالبان کے اندرکسی معتدل دھڑے کی تقویت زیادہ قابلِ عمل راستہ ہوتاکہ تبدیلی اندرسے آئے،باہرسے مسلط نہ کی جائے۔(جاری ہے)