بالی ووڈ کے شہنشاہ امیتابھ بچن نے اپنی بڑھتی عمر کے اثرات اور کام میں درپیش مشکلات کے حوالے سے کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔
اپنے بلاگ میں امیتابھ بچن نے اعتراف کیا کہ انہیں اب مکالمے یاد رکھنے میں دقت ہوتی ہے، سیٹ پر غلطیاں کر بیٹھتے ہیں اور اکثر ہدایت کار سے ایک اور موقع دینے کی درخواست کرتے ہیں تاکہ اپنی پرفارمنس کو بہتر بنا سکیں۔بگ بی کے مطابق، کام کے حوالے سے میٹنگز ان کے لیے ایک امتحان بن جاتی ہیں، جہاں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کون سا پروجیکٹ لینا ہے، کس چیز کو مسترد کرنا ہے اور کس چیز کو نرمی سے رد کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں ہمیشہ یہ سوال رہتا ہے کہ آیا وہ دیے گئے کام کے ساتھ انصاف کر پائیں گے یا نہیں۔ مزید یہ کہ پروڈکشن، مارکیٹنگ اور فلموں کی نمائش جیسے پہلو اب ان کے لیے پیچیدہ اور ناقابل فہم محسوس ہوتے ہیں۔امیتابھ بچن نے تسلیم کیا کہ جیسے جیسے عمر بڑھ رہی ہے، نہ صرف مکالمے یاد رکھنا مشکل ہو رہا ہے بلکہ دیگر چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
وہ اکثر فلم کی شوٹنگ کے بعد گھر جا کر اپنی غلطیوں پر غور کرتے ہیں اور کبھی آدھی رات کو ہدایت کار کو فون کرکے دوبارہ سین کرنے کی درخواست بھی کر دیتے ہیں۔انہوں نے حقیقت پسندانہ انداز میں لکھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ مداحوں کی دلچسپی کم ہو جاتی ہے، اداکاروں کی مقبولیت ختم ہو جاتی ہے، اور جب کوئی چہرہ اسکرین پر شائقین کو متاثر نہیں کر پاتا تو وہ رخ موڑ لیتے ہیں۔ یہ زندگی کا ایک سائیکل ہے جو کبھی نہیں رکتا۔حال ہی میں امیتابھ بچن کے ایک پراسرار ٹویٹ نے ان کی ریٹائرمنٹ سے متعلق قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھا، تاہم انہوں نے اپنے مشہور شو "کون بنے گا کروڑ پتی" میں مزاحیہ انداز میں ان افواہوں کو مسترد کر دیا۔