اسلام آباد ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے مقدمے میں سزا یافتہ مجرم کی سزا معطلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ مجرم کی سزا میں پانچ ماہ اور 25 دن باقی رہ گئے تھے۔
عدالت نے سزا کے خلاف دائر مرکزی اپیلوں کو بھی دو ہفتے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس خادم سومرو پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔سماعت کے دوران جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے مقدمے کی حساسیت اور عدالتی کارروائی کے دوران درپیش سکیورٹی خدشات پر اہم ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا کہ توہین مذہب کے مقدمے کی سماعت کے دوران انہیں محسوس ہوتا تھا کہ کوئی آئے گا اور انہیں گولی مار کر چلا جائے گا۔جسٹس اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے مقدمات میں جج بغیر کسی خوف کے اپنی نشست پر بیٹھ کر سماعت نہیں کر پاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اکیلے ان اپیلوں کی سماعت کرسکتے تو ضرور کرتے، تاہم سکیورٹی خدشات ایک اہم مسئلہ ہیں۔
ریاستی ذمہ داریوں اور ججز کے تحفظ پر بھی اہم ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریاستی ذمہ داریوں اور ججز و گواہوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست منافقت کرتی ہے، ججز اور گواہوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔جسٹس اعجاز اسحاق نے مزید کہا کہ کتنے ہی ججز ایسے ہیں جن کی جانیں چلی گئیں۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ اپیلیں برسوں سے سماعت کے لیے کیوں مقرر نہیں ہوتیں۔انہوں نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ اگر وہ اس معاملے پر جواب دیں گے تو ان کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر ہوجائے گا۔
مدعی مقدمہ کا اعتراض، عدالت کا قانونی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ
عدالت کی جانب سے سزا معطلی کا حکم لکھوائے جانے کے بعد مدعی مقدمہ نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ انہیں اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، کیونکہ وہ اس مقدمے کے مدعی ہیں۔اس پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ جج کے فیصلے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، تاہم کسی جج کے خلاف شکایت کی صورت میں قانونی پلیٹ فارم موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف بھی قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے ایک اور ریفرنس دائر کیا جاسکتا ہے۔
مرکزی اپیلوں کی سماعت دو ہفتے بعد ہوگی
بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا یافتہ مجرم کی سزا معطل کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہائی کا حکم دے دیا۔عدالت نے مقدمے میں سزا کے خلاف دائر مرکزی اپیلوں کو دو ہفتے بعد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی ملتوی کردی۔