اسلام آباد(آئی این پی )سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے نجی ہسپتال میں جڑواں بچیوں کی پیدائش کے دوران خاتون کی موت کے معاملے میں ڈاکٹروں کے خلاف فوجداری کارروائی کے لئے دائر درخواست خارج کر دی۔جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ طبی علاج کے دوران مریض کی موت واقع ہونے کو بذاتِ خود فوجداری غفلت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ تحریری فیصلے کے مطابق ڈاکٹروں نے مریضہ کے علاج کے لئے طبی طریقہ کار اختیار کیا جبکہ ڈلیوری سے قبل آپریشن کے لئے مریضہ کی رضامندی بھی حاصل کی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی مواد موجود نہیں جس سے ظاہر ہو کہ کسی ڈاکٹر کا ارادہ خاتون کی موت کا سبب بننے کا تھا۔ اسی طرح یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ بے ہوشی کی دوا (اینستھیزیا) کا استعمال طبی علاج کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لئے کیا گیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا کوئی مواد موجود نہیں جو ثابت کرے کہ ڈاکٹروں کا عمل بدنیتی پر مبنی تھا یا انہیں ایسے حالات کا علم تھا جو طبی عمل کو قابلِ سزا جرم میں تبدیل کر سکتے تھے۔