امریکی جج نے کاروباری ریکارڈ میں جعلسازی سے متعلق مقدمے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر فرد جرم برقرار رکھتے ہوئے انہیں سزا سنانے کے لیے 10 جنوری کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
یہ مقدمہ ان کے کاروباری معاملات سے متعلق ہے جس میں ان پر مالیاتی جعلسازی کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اگرچہ ٹرمپ پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے، لیکن جج نے واضح کیا کہ انہیں جیل کی سزا دینے کا امکان کم ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے مجرم قرار دیے جانے کے باوجود وہ 2025 میں صدر کے عہدے پر فائز ہونے والے پہلے امریکی صدر ہوں گے جو اس دوران کسی قانونی مقدمے میں مجرم قرار پائیں گے۔ری پبلکن پارٹی کی طرف سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے، اور یہ سیاسی اور قانونی تنازعات کا ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔ اس کیس کا اثر نہ صرف ٹرمپ کی سیاسی حیثیت پر بلکہ امریکہ کی سیاسی تاریخ پر بھی پڑ سکتا ہے۔