شوبز میں منشیات کا رجحان!

 رفیع احمد 

      دنیا بھر میں منشیات کا دھندہ اب نفع بخش کاروبار بن گیا ہے ‘ منشیات فروش آسان ٹارگٹ تلاش کرکے ان میں منشیات سپلائی کرتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ان کا سب سے آسان اور بڑا ٹارگٹ شوبز سے وابستہ افراد ہوتے ہیں بالخصوص صنف نازک، یہ افراد دن رات ذہنی و جسمانی محنت کی وجہ سے بری طرح دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دھندہ سے منسلک  افراد انہیں باآسانی منشیات کا عادی بنا کر فائدہ اٹھاتیہیں۔منشیات، جنسی بے راہ روی، قتل اور خودکشی کا سبب بنتی ہے۔شوبز کے ہر شعبہ میں عیاش مردوں سے توکوئی بھی لڑکی محفوظ نہیں رہی، یہ ہی وجہ ہے کہ ان کی ازدواجی زندگیاں ناکام رہتی ہیں 
     معروف اداکار ساجد حسن کا شوبز سے وابستہ بیٹا سید ساحر حسن اور مصطفیٰ  عامر کیس کا ملزم ارمغان قریشی نہ صرف مہنگی منشیات کا استعمال کرتے تھے بلکہ شوبزکی ماڈلز  اور اداکاروں کو بھی منشیات سپلائی بھی کیا کرتے تھے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ شوبز انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کی بہت بڑی تعداد الیکٹرانک سگریٹ (ویپ)، کرسٹل  آئس، شراب، چرس،کوکین، ویڈ(Weed) نشہ آور گولیاں اور انجکشنزکااستعمال کر رہے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں تعلیم و تربیت کی کمی، غربت، بیروزگاری اور اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں باآسانی شوبز سے وابستہ ہو جاتے ہیں،ان نوجوانوں کی بدقسمتی یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کی اکثریت شوبز اسکرین پر ناکامی کے بعد ڈانس پارٹیز اور مساج سینٹرز کا آلہ کار بن جاتی ہیں یعنی ان کے آرگنائزر ان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں بیرون ملک کالے دھندے کے لیے بھیج دیتے ہیں یا  قتل بھی ہو جاتے ہیں۔اسی طرح سستی شہرت یافتہ اداکاروں و ماڈلز  دولت کی ہوس میں اندھی ہوکر منشیات و ممنوعہ اشیاء￿  کی سپلائی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتیں، ماضی قریب میں ماڈل ایان علی اور اداکارہ عتیقہ اوڈھو کا نام کافی مشہور ہوا تھا مگر زیادہ تر مقدمات، دباؤ کی وجہ سے منظرعام پر نہیں آتے ، بلکہ ان عورتوں کو ملک کا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے کتنے المیہ کی بات ہے کہ ہماری حکومتوں نے ماڈل و اداکارہ سجل علی،جگن کاظم اور مہوش حیات کو "تمغہ امتیاز" سے نوازا اور  "پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ" اداکارہ بشریٰ انصاری، شیبا ارشد، فریحہ پرویز اور ماہرہ خان کو دیا،  اب ہمیں نوجوان نسل  کو یہ بتانا ہوگا کہ ہمارے حقیقی  ہیروز ٹیپو سلطان ، حیدر علی،علامہ اقبال ، علی برادران، سرسید احمد خان، قائد اعظم،محترمہ فاطمہ جناح ،لیاقت علی خان، شہید ایم ایم عالم، فلائنگ آفیسر مریم مختیار شہید،صلاح الدین شہید ،ڈاکٹر عبد القدیر خان، حکیم محمدسعید، عبدالستار ایدھی، بلقیس ایدھی، ملیحہ لودھی،ڈاکٹر ادیب رضوی، ڈاکٹر عبد الباری وغیرہ جیسے عظیم لوگ پاکستان  کیسر کے تاج و ہیروز ہیں۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا، شوبز سے وابستہ افراد کو ہرگز ہرگز اہمیت نہ دیں، شوبز رپورٹر، رائیٹر اور فوٹوگرافر وغیرہ اللّہ سے  توبہ کریں.قران میں آیا ہے کہ " جو لوگ بے حیاء کے کاموں 
میں تعاون کرتے ہیں تو ان کو دنیا و آخرت دونوں میں درد ناک عذاب دیا جائے گا"تعلیمی ادارے بھی شوبز سے وابستہ افراد کا مکمل بائیکاٹ کریں،حکومتی سطح پر بھی ان کو اعزازات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔حکومت پاکستان منشیات کی سپلائی کی روک تھام کے ساتھ  شوبز کے دفاتر،ان کے نائٹ کلب، ناچ گانے کے شوز ، قوالی و ڈانس پارٹیز پر سختی سے پابندی عائد کرے۔سرکاری و غیر سرکاری تنظیمیں شوبز کی نام نہاد روشنیوں کا پردہ چاک کرکے بتائیں کہ اس کے پیچھے تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ گھپ اندھیرا۔۔۔۔۔