راکھ سے پہلے

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخِ عالم کبھی کبھی ایسے موڑپرآکھڑی ہوتی ہے جہاں سلطنتوں کے لشکر،ایوانوں کے فیصلے اورحکمرانوں کی خواہشیں مل کر انسانیت کے مقدرپرایسا سوالیہ نشان ثبت کردیتی ہیں جس کاجواب صرف میدانِ جنگ نہیں،آنے والی نسلیں بھی تلاش کرتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں بعض امریکی اہلکاروں کی طرف سے ایران پرایٹمی حملے کی دہمکیوں سے دنیابھرمیں تشویش کی لہردوڑگئی ہے۔کیاایران پرایٹمی حملے کاسایہ،مغربی ایشیاکی جنگ،طاقت کاتوازن مسلم دنیاکاتاریخی امتحان ثابت ہوسکتاہے یاپھرایک ایسی عالمی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتا ہے جس کے بعددنیاکاوجودقیامت کے منظرمیں تبدیل ہوجائے گا ؟آج کاسب سے اہم سوال یہی ہے۔
موجودہ مغربی ایشیائی کشمکش کومحض ایران،اسرائیل اورامریکاکی عسکری آویزش نہیں بلکہ اسے طاقت،نظریے،مزاحمت،اخلاقی جوازاورایٹمی بازدارندگی کے ایک ایسے سنگم کے طور پردیکھاجاناضروری ہے جہاں ایک غلط قدم پورے دنیاکوناقابلِ واپسی تباہی کی طرف لے جاسکتاہے۔جولائی1402کی مشہورجنگِ انقرہ میں جب امیرتیمورنے عثمانی سلطان بایزیدیلدرم کوشکست دی تھی۔روایت کیمطابق تیمورنے شکست خوردہ بایزیدکی طرف دیکھتیہوئیانسانی اقتدارکی ستم ظریفی کاذکرکیاتھاکہ دنیاکامقدرایک لنگڑے اورایک نیم نابینا شخص کے ہاتھوں میں کیسےآگیا۔یہ حکایت آج کے مضمون میں محض تاریخی زیبِ داستان کیلئے نہیں،بلکہ پوری تحریرکی معنوی بنیادہے۔
سوال یہ ہے کہ اگرقرونِ وسطی میں دوحکمرانوں کے ذاتی عزائم ہزاروں انسانوں کی تقدیربدل سکتے تھے توآج،جب ایٹمی ہتھیاروں کے ایک بٹن پرکروڑوں جانوں کافیصلہ موقوف ہوسکتاہے،اقتدارکی اخلاقی کیفیت کس قدرزیادہ اہم ہوجاتی ہے۔پہلے جنگیں گھوڑوں، تلواروں اورمنجنیقوں سے لڑی جاتی تھیں؛آج زمین کے نیچے محفوظ ایٹمی ذخیرے، براعظموں کوعبورکرنے والے میزائل،مصنوعی سیارے،ڈرون اورمیزائل شکن نظام فیصلہ کن عناصربن چکے ہیں۔یوں انسانی قوت بڑھی ہے مگراس کے ساتھ انسانی غلطی کی قیمت بھی آسمان کوچھونے لگی ہے۔یہی وہ فکری پل ہے جس پرچلتے ہوئے آج کامضمون ماضی کے انقرہ سے عصرِحاضرکے مغربی ایشیاتک پہنچتاہے۔
یادرہے کہ موجودہ جنگی مرحلے کے بعدطاقت کاروایتی توازن بڑی حدتک متزلزل ہوچکاہے۔ایران نے نہ صرف اپنے ابتدائی نقصانات کی بڑی حدتک تلافی کرلی ہے بلکہ اس نے اپنے دفاعی ڈھانچے،میزائل صلاحیت اورڈرون ذخیرے کوبھی دوبارہ منظم کیاہے۔دوسری طرف امریکی اگلے مورچوں،ریڈارنظاموں اوررسدکے بعض مراکزکوبھاری نقصان پہنچنے پرامریکی بحری بیڑے کوایرانی اینٹی شپ میزائلوں کی پہنچ سے دوررکھنے کیلئے بحرِہندکی گہرائی میں منتقل کرناپڑگیاہے۔دوسری طرف اسرائیل کے میزائل شکن دفاعی ذخائرکا قابلِ ذکرحصہ یاتواستعمال ہوچکاہے یانقصان اٹھاچکاہے۔جدید جنگ میں صرف حملہ آورہونابرتری کی ضمانت نہیں؛بقا،رسد،دفاعی ذخائراورطویل جنگ برداشت کرنے کی صلاحیت بھی طاقت کاحصہ ہیں۔جنگ کاپہلاواراکثرتوپ و تفنگ سے کیاجاتاہے،مگرآخری فیصلہ ذخیر صبر،معاشی گنجائش،سیاسی عزم اورصنعتی استعداد کرتی ہے۔اسی لیے تاریخ میں کتنی ہی افواج پہلی یلغارمیں فاتح دکھائی دیں مگروقت کی ریت نے ان کی فتح کوشکست میں بدل دیا۔
ایران کاطرزِعمل خالصتاجغرافیائی سیاست سے پیدانہیں ہوتابلکہ ایران محض ریاست نہیں،بلکہ ایک نظریاتی مزاحمت ہے جواسے ایک ایسے نظریاتی عزم سے جوڑتی ہے جس میں کربلا،مظلوم کی حمایت،فلسطین اورلبنان کوخصوصی مقام حاصل ہے۔ایرانی قیادت اسرائیلی اورامریکی دباکے سامنے پسپائی کومحض سیاسی شکست نہیں بلکہ ایک وسیع ترنظریاتی شکست تصورکرتی ہے۔
یہاں کربلاایک تاریخی واقعہ ہی نہیں رہتی بلکہ سیاسی علامت بن جاتی ہے ایک ایسااستعارہ جس میں قلتِ وسائل کے باوجودمزاحمت، قوت کے سامنے سرنہ جھکانااورمظلوم کے ساتھ کھڑاہونامرکزی مفہوم اختیارکرلیتاہے۔اسی تناظرمیں اب بھی ایران فلسطینیوں اورلبنان کے مسئلے سے دستبردارہونے کوتیارنہیں۔یوں ایک طرف طاقت کی منطق ہے اور دوسری طرف عقیدے اورتاریخی حافظے کی قوت۔جب ریاستی حکمتِ عملی قومی مفادسے آگے بڑھ کرمذہبی یاتہذیبی تصورسے جڑجائے توجنگ محض سرحدی تنازع نہیں رہتی؛وہ شناخت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔اورشناخت کی جنگیں اکثرمذاکرات کی میزپرختم کرناسب سے دشوارہوتی ہیں۔
میں اسرائیلی حکمتِ عملی کوبھی اسی شدت کے ساتھ نظریاتی رنگ میں دیکھتاہوں۔اسرائیل ایران کوایک ایسے علاقائی طاقت کے طور پردیکھتاہے جواس کے طویل المدت علاقائی تصورات کے راستے یعنی گریٹراسرائیل میں بڑی رکاوٹ ہے۔یہاں اصل مسئلہ محض یہ نہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں؛مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کواپنے بنیادی مقاصدکیلئے وجودی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔جب جنگ وسائل یاسرحدکیلئے ہوتوسوداممکن رہتاہے۔ایک دریاتقسیم ہوسکتاہے،ایک سرحدطے ہوسکتی ہے،ایک تجارتی راستہ مشترک بنایاجاسکتاہے لیکن جب ایک فریق دوسرے کواپنے وجود،نظریے یامستقبل کیلئے بنیادی خطرہ سمجھنے لگے تو مصالحت کی زمین تنگ ہونے لگتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سفارتکاری کی زبان مدھم اوربارودکی زبان بلندہونے لگتی ہے۔
ایک دلچسپ داخلی کشمکش امریکاکے کردارسے متعلق ہے۔ایک طرف امریکااسرائیل کالازمی عسکری سہاراہے؛دوسری طرف اب واشنگٹن مزید طویل جنگ سے گریزکاخواہاں ہے ۔اسرائیل کسی نئے بڑے جنگی مرحلے کاآغازامریکی پشت پناہی کے بغیرنہیں کرسکتا، جبکہ امریکاکیلئے جنگ کااگلامرحلہ سیاسی،عسکری اورلاجسٹک اعتبارسے پہلے سے زیادہ مہنگاہو سکتاہے۔تاہم امریکااوراسرائیل کا اتحاداتناگہراہے کہ واشنگٹن اپنی خواہش کے باوجودمکمل طورپرالگ نہیں ہوپائے گا۔
لیکن سوال یہ ہے کیاکوئی بڑی طاقت اپنے اتحادی کی جنگ میں اس حدتک بندھ سکتی ہے کہ اس کی اپنی حکمتِ عملی ثانوی ہوجائے؟ تاریخ ایسی مثالوں سے خالی نہیں۔اتحادکبھی ڈھال بنتے ہیں اورکبھی زنجیر۔اگلی جنگ میں نیاکیاہوگا؟سب سے خوفناک سوال یہاں سے شروع ہوتاہے۔
اگرایک نیاجنگی مرحلہ آتاہے توامریکااوراسرائیل ایران کے خلاف ایساکون ساہتھیاراستعمال کرسکتے ہیں جوپہلے استعمال نہ کیاگیاہو؟ خبریہ ہے کہ اب تک تمام جنگی مرحلے میں موجودریڈار،اڈے،رسدی مراکزاورروایتی عسکری وسائل پہلے ہی بڑی حدتک آزمائے جا چکے ہیں۔اس کے بعدایک نہایت تشویش ناک نتیجہ سامنے آتاہے:اگرروایتی ہتھیار مطلوبہ نتیجہ نہ دے سکے اورجنگ کاسیاسی مقصد پھربھی برقراررہاتوایٹمی ہتھیاراستعمال کرنے کاامکان بڑھ سکتاہے۔اس امکانی مفروضہ کے باوجودسوال لرزادینے والاہے۔ایٹمی جنگ وہ دروازہ ہے جس کے پارفتح اورشکست دونوں کے معنی بدل جاتے ہیں۔روایتی جنگ میں ایک شہرکھویاجاسکتاہے اوردوبارہ آبادکیاجا سکتاہے،ایک لشکرشکست کھاسکتاہے اوردوبارہ تیارہوسکتاہے لیکن ایٹمی جنگ میں زمین،نسل،پانی،ہوااورآنے والی نسلیں تک میدانِ جنگ بن سکتی ہیں۔وہاں فاتح بھی اپنی فتح کی راکھ اپنے ہاتھوں پراٹھائے پھرتا ہے۔
دوسری اہم دلیل ایٹمی ڈیٹرنس یعنی ایٹمی بازدارندگی سے متعلق ہے یعنی ڈیٹرنس ایٹمی عہد کا خاموش محافظ ہے۔ تاریخ میں ایٹمی جنگ عموما دوعوامل کے سبب ٹلی:یامخالف کے پاس جوابی ایٹمی صلاحیت موجودتھی،یافیصلہ سازوں کیسامنیاخلاقی اورانسانی حدود تھیں۔ لیکن ایران کے پاس پہلی قسم کی بازدارندگی موجودنہیں۔یہیں سے استدلال زیادہ خطرناک اور متنازع صورت اختیارکرتاہے۔جس ریاست کے پاس یقینی جوابی ضرب لگانے کی قوت نہ ہووہ ایٹمی دباکے مقابل نسبتازیادہ غیرمحفوظ ہوسکتی ہے۔جدیدبین الاقوامی سیاست کا ایک تلخ تضادبھی یہی ہے۔دنیاایٹمی ہتھیاروں کوانسانیت کیلئے لعنت کہتی ہے،مگریہی ہتھیاربعض ریاستوں کے نزدیک آخری ضمانتِ بقا تصورکی یجاتے ہیں۔یہ ایسازہرہے جسے انسان نے دواکانام دے دیاہے۔(جاری ہے)