اکتوبر:ٹریفک حادثات 464زندگیاں نگل گئے

پنجاب میں ریسکیو 1122 نے79ہزار744حادثات پر ریسپانس کیا 2لاکھ 10ہزار افراد کو سروسز فراہم کیں: رپورٹ
 لاہور (کرائم رپورٹر) سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے اکتوبر 2026 کے دوران صوبے بھر میں پیش آنے والے 44,797 روڈ ٹریفک حادثات میں 464 افراد کے جاں بحق اور 23,543 افراد کے شدید زخمی ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب ایمرجنسی سروسز ریسکیو 1122 نے گزشتہ ماہ 231,056 ایمرجنسیز پر بروقت رسپانس دیتے ہوئے 233,210 متاثرین کو امدادی خدمات فراہم کیں، جبکہ اس دوران آگ لگنے کے 1,726 اور ڈوبنے کے 94 واقعات بھی پیش آئے۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے ان خیالات کا اظہار اکتوبر کی آپریشنل کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ماہانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں ڈائریکٹرز ایمرجنسی سروسز، مختلف ونگز کے سربراہان اور صوبائی مانیٹرنگ آفیسر نے شرکت کی، جبکہ تمام اضلاع کے ایمرجنسی افسران ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران ضلعی افسران نے اپنے اپنے علاقوں کی کارکردگی، اہم ایمرجنسیز، رسپانس اور آپریشنل چیلنجز کے حوالے سے بریفنگ دی۔ ہیڈ آف آپریشنز نے بتایا کہ اکتوبر میں سب سے زیادہ 59,325 ایمرجنسیز روڈ ایکسیڈنٹس اور ٹراما سے متعلق تھیں، جبکہ دل کے امراض کے 42,813، معدے اور نظامِ ہاضمہ کے 31,301، سانس کی بیماریوں کے 22,605، اعصابی امراض کے 17,853، بخار کے 15,212، امراضِ نسواں و زچگی کے 7,954، مثانے کے امراض کے 7,498، آگ لگنے اور ریسکیو سے متعلق 6,924، شوگر کے 5,275، نفسیاتی امراض کے 4,915، ریڑھ اور جوڑوں کے درد کے 4,227، جرائم سے متعلق 4,195 اور الرجی کے 379 واقعات رپورٹ ہوئے۔ اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 7,874 ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں 8,833 موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔ ملتان میں 2,838 حادثات میں 3,312، فیصل آباد میں 2,615 حادثات میں 2,896، گوجرانوالہ میں 2,092 حادثات میں 2,250 اور شیخوپورہ میں 1,714 حادثات میں 1,706 موٹر سائیکلیں شامل تھیں، جبکہ تونسہ شریف میں سب سے کم 142 حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 160 موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔ آگ لگنے کے واقعات میں لاہور 357 واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ فیصل آباد میں 122، راولپنڈی میں 116، ملتان میں 109، شیخوپورہ میں 66 اور گوجرانوالہ میں 62 واقعات پیش آئے۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ ٹریفک حادثات میں 74 فیصد موٹر سائیکلیں شامل تھیں۔ انہوں نے موٹر سائیکل سواروں پر زور دیا کہ وہ محفوظ ڈرائیونگ اختیار کریں اور سڑک کے بائیں جانب 50 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم رفتار پر سفر کریں۔ ان کے مطابق رفتار میں ہر ایک کلومیٹر فی گھنٹہ اضافہ مہلک حادثے کے خطرے کو 4 سے 5 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔