تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جواب دیا تو آپ کو برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا:فضل الرحمان

پشاور (یواین پی) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے  افغانستان سے منسلک اضلاع کے بعد اب کوہاٹ ڈویژن میں بھی ایمرجنسی لگائی جائے گی کیونکہ وہاں سے بھی سمگلنگ کا راستہ موجود ہے اور اگر ان کا یہ مؤقف غلط ہے تو مخالفین دلیل کے ساتھ ان کا جواب دیں۔پشاور میں سوشل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خواجہ آصف کے ردعمل سے متعلق کہا  خواجہ آصف میرے محترم اور بڑے بھائی ہیں، میں نے تو صرف ان کی گدگددی لی تھی مگر وہ غصہ کرگئے، اور انہیں غصہ اگلے روز آیا جو  ان کے اپنے منہ پر لگتا ہے، یہاں بڑے بڑے صاحب بہادر گزرے ہیں، وہ بھی ہمارے سروں پر بیٹھنا چاہتے تھے، ہم نے ان کو بغل میں دبا دیا، ہم مرعوب ہونے والے نہیں، آزمانا چاہتے ہو تو ذرا ہاتھ لگا کر دیکھو۔سربراہ جے یو آئی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پروپیگنڈا کرکے ہمارے کارکنوں کو ہرگز متاثر نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ تمام چیزیں کون کر رہا ہے؟ ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو آرمی چیف کی ناک کے نیچے ہے، میں برملا آرمی چیف سے شکایت کرتا ہوں اور موقع ملنے پر یہ بات ان کے سامنے بھی رکھوں گا ۔افغانستان جانے کے مشورے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا  جو لوگ کہتے ہیں  ہمیں افغانستان چلے جانا چاہیے، وہ پہلے اپنا نسب نامہ اور اپنی تاریخ بتائیں، ان کے آباؤ اجداد کل بھی انگریزوں کے وفادار تھے اور ان کی آج کی تعلیم و تربیت بھی وہی ہے جو انگریزوں نے دی تھی، اگر کسی کو اس طرح کی باتیں کرنی ہیں تو اسے پاکستان میں رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں، وہ جا کر برطانیہ میں رہیں وہی ان کی اقامت گاہ بن سکتی ہے۔