سمیع اللہ ملک
تاریخ کے صفحات پربعض ادوارایسے بھی طلوع ہوتے ہیں جب انسان اپنی سائنسی ترقی،سیاسی اداروں،تہذیبی ورثے اوراخلاقی دعوں کے باوجودخودکوایک ایسے اندھے موڑپرکھڑا پاتاہے جہاں چندافرادکے فیصلے کروڑوں انسانوں کی زندگی،موت،امن اورمستقبل کاتعین کرنے لگتے ہیں۔اکیسویں صدی کامشرقِ وسطی اسی المیے کی ایک ہولناک مثال بن چکا ہے۔ڈونلڈٹرمپ اوراسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہوکی جنگی پالیسیوں پراٹھنے والے سوالات محض دوحکمرانوں کی شخصیتوں،ان کی سیاسی ترجیحات یاان کے باہمی تعلقات تک محدودنہیں رہے۔ان کاتعلق اس بنیادی سوال سے ہے کہ کیاجدیددنیامیں طاقتورریاستوں کے سربراہوں کوجنگ شروع کرنے،دوسرے ممالک کی خودمختاری کوچیلنج کرنے اورلاکھوں انسانوں کے مستقبل کوخطرے میں ڈالنے کے نتائج سے بچ نکلنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟
یہاں عمرکوکسی انسان کی اہلیت یاکردارکاپیمانہ بنانامقصودنہیں۔اصل مسئلہ اقتدار،جوابدہی،سیاسی انااورجنگ کے فیصلوں کاہے۔جب تجربے کوحکمت کی بجائے غلبے کیلئے استعمال کیاجائے،جب سفارتکاری کودباؤکی دھمکیوں کے تابع کردیاجائے اورجب انسانی جانوں کوسیاسی مقاصدکے مقابلے میں ثانوی حیثیت دی جانے لگے توعمررسیدگی دانشمندی کی ضمانت نہیں رہتی،بلکہ اقتدارکی اخلاقی ناکامی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔آج سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ اورنیتن یاہوکتنے طاقتورہیں۔سوال یہ ہے کہ ان کی طاقت کوروکنے،ان کے فیصلوں کامحاسبہ کرنے اورانسانیت کوایک وسیع ترجنگ سے بچانے کیلئے عالمی نظام کے پاس کتنی حقیقی قوت باقی ہے۔
انسانی تاریخ کامطالعہ بتاتاہے کہ سلطنتیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں کے ہاتھوں ہی تباہ نہیں ہوئیں؛بعض اوقات ان کے اپنے حکمرانوں کی خود پسندی،غلط اندازے،بے قابوتوسیع پسندی اورسیاسی ضدنے بھی ان کے زوال کی بنیادرکھی۔قدیم روم کی وسعت پسندانہ سیاست سے لے کر یورپ کی مذہبی جنگوں تک،نپولین کی مہمات سے پہلی عالمی جنگ تک، اورہٹلرکی جارحیت سے دوسری عالمی جنگ کے ایٹمی اختتام تک،تاریخ باربارایک ہی حقیقت سامنے لاتی ہے:جب سیاسی قیادت طاقت کواخلاقی حدودسے آزادسمجھنے لگتی ہے تواس کے فیصلوں کی قیمت صرف سپاہی نہیں،آنے والی نسلیں بھی اداکرتی ہیں۔
1914میں یورپ کی بڑی طاقتیں ایک ایسے تصادم میں داخل ہوئیں جس کے متعلق بہت سے فیصلہ سازوں نے اس کے دوررس نتائج کا درست اندازہ نہیں لگایاتھا۔اتحادوں ، قومی غرور،عسکری منصوبہ بندی اورباہمی بداعتمادی نے ایک علاقائی بحران کوعالمی جنگ میں تبدیل کردیا۔لاکھوں انسان مارے گئے،سلطنتیں بکھرگئیں اورایک نسل کے خواب خندقوں کی مٹی میں دفن ہوگئے۔
اس کے بعد1939میں دوسری عالمی جنگ نے انسانیت کواس سے بھی زیادہ ہولناک تباہی سے دوچارکیا۔ہولوکاسٹ،شہری آبادیوں پر بمباری،جبری بے دخلی اورہیروشیما و ناگاساکی پرایٹمی حملوں نے ثابت کردیاکہ جدیدٹیکنالوجی اگراخلاقی ذمہ داری سے محروم ہوجائے توانسانی ذہانت بھی تباہی کاوسیلہ بن سکتی ہے۔اسی تاریخی تجربے کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ قائم ہوئی،جنیواکنونشنوں کوبین الاقوامی انسانی قانون کی بنیادبنایاگیااورشہریوں کوجنگ کے اثرات سے محفوظ رکھنے کیلئے عالمی اصول مضبوط کیے گئے۔لیکن تاریخ کا سب سے تلخ سبق یہ ہے کہ ادارے قائم کرناآسان اورطاقتورریاستوں کوان اصولوں کاپابندبنانامشکل ہے۔اگ قانون کمزورپرلاگوہومگرطاقتور کے سامنے خاموش ہوجائے تووہ انصاف کانظام نہیں رہتا،طاقت کی درجہ بندی بن جاتاہے۔
فلسطین کاالمیہ محض اکتوبر2023سے شروع ہونے والی جنگ کی کہانی نہیں۔اس کی جڑیں1948کی جنگ،فلسطینیوں کی وسیع پیمانے پربے دخلی،1967کے بعد کے قبضے، بستیوں کی توسیع،ناکہ بندیوں اورکئی دہائیوں سے جاری سیاسی تنازع میں پیوست ہیں۔فلسطینی عوام کی قومی آزادی،ریاستی خودمختاری،سلامتی اوربنیادی حقوق کاسوال نسل درنسل حل طلب چلاآرہاہے۔
سات اکتوبر2023کوحماس کی قیادت میں اسرائیل پرحملوں میں1,200سے زیادہ افرادہلاک ہوئے اوریرغمال بنائے گئے۔شہریوں کاقتل اور یرغمال بناناناقابلِ جوازتھا لیکن کسی جرم کاارتکاب دوسرے جرم کیلئے اجازت نامہ نہیں بن سکتا۔اس کے بعدغزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں نے ایک ایسا انسانی بحران پیداکیاجس نے دنیاکے ضمیرکو جھنجھوڑ کررکھ دیا۔اقوامِ متحدہ کی جون2026کی بریفنگ کے مطابق غزہ میں67,000سے زیادہ فلسطینیوں کی ہلاکتیں رپورٹ ہوچکی تھیں،جبکہ تین چوتھائی سے زیادہ عمارتیں اور سڑکیں تباہ یانقصان زدہ ہوگئی تھیں۔یہ اعدادوشمارمحض اعدادنہیں؛ان کے پیچھے اجڑے خاندان،یتیم بچے، ملبے میں دبے خواب اورایسی زندگیاں ہیں جن کی واپسی ممکن نہیں۔ اپریل2026میں اقوامِ متحدہ،یورپی یونین اورعالمی بینک کے مشترکہ جائزے نے غزہ کی بحالی اورتعمیرِ نوکی ضروریات کاتخمینہ71.4ارب ڈالرلگایا۔371,888سے زیادہ رہائشی یونٹ تباہ یانقصان زدہ قرار دیے گئے،نصف سے زیادہ ہسپتال غیرفعال تھے اورتقریباتمام اسکول تباہ یامتاثرہوچکے تھے۔
ذراتصورکیجیے:ایک بچہ جواپنے اسکول کے صحن میں کھیلناچاہتاتھا،اب ملبے میں اپنے گھروالوں کی تلاش کررہاہے۔ایک ماں جواپنے بچے کیلئے روٹی بچاکررکھتی تھی،اب امدادی سامان کے انتظارمیں دن گزاررہی ہے۔ایک معلم جس نے نسلوں کوعلم دیناتھا،اب اپنے ہی شاگردوں کے نام کھنڈرات میں تلاش کررہاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں جنگی حکمتِ عملی کے خشک الفاظ اپنی معنویت کھودیتے ہیں۔اہداف،آپریشن،دبااورتزویراتی برتری کی اصطلاحات اس وقت بے رحم محسوس ہوتی ہیں جب ان کے پس منظرمیں کسی بچے کی چیخ سنائی دیتی ہے۔غزہ کابنیادی سوال یہ ہے کہ اگرجدیددنیاکے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ چند گھنٹوں میں عمارتوں کوملبے میں بدل سکتی ہے،تواس کے پاس اتنی اخلاقی قوت کیوں نہیں کہ بچوں کوبھوک ،خاندانوں کوبے گھر،دربدری اورشہریوں کومسلسل خوف سے بچاسکے؟
نیتن یاہوکی قیادت کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیافوجی برتری دیرپاسیاسی امن پیداکرسکتی ہے؟اسرائیل کوسات اکتوبرکے حملوں کے بعداپنے شہریوں کے تحفظ اور یرغمالیوں کی واپسی کاحق حاصل تھالیکن ریاستی سلامتی کاحق لامحدود نہیں؛اس پربین الاقوامی انسانی قانون کی پابندیاں لاگوہوتی ہیں۔فوجی کارروائی کی قانونی حیثیت کاتعین صرف اس کے اعلان کردہ مقصدسے نہیں،بلکہ ہدف کے انتخاب،متوقع شہری نقصان،احتیاطی تدابیراورحملے کے تناسب سے بھی ہوتاہے۔ کسی مسلح گروہ کی موجودگی پوری آبادی کو اجتماعی سز دینے کاجوازنہیں بن سکتی۔
غزہ میں تباہی کے باوجودسیاسی مسئلہ حل نہیں ہوا۔اکتوبر2025میں ٹرمپ کے غزہ منصوبے سے پیداہونے والی امیدکے باوجوداکتوبر 2026تک تعمیرِ نوکاعمل شدیدرکاوٹوں کا شکاررہا۔واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی شرائط اورغزہ میں انتظامی اختیارکے تنازع نے بحالی کے متعدد منصوبوں کوآگے بڑھنے سے روکے رکھا۔ یہ صورتِحال ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے:اگر جنگ کا اختتام کسی قابلِ قبول سیاسی تصفیے پرنہ ہوتوعسکری کامیابی بھی مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ایک قوم کومستقل خوف میں رکھنا،دوسری قوم کومستقل بے یقینی میں مبتلاکرنااوردونوں کے بچوں کونفرت کے ورثے کے حوالے کردینا کسی بھی دانشمند قیادت کی کامیابی نہیں ہوسکتی۔نیتن یاہوکی پالیسیوں پرتنقیداسرائیلی شہریوں کیاجتماعی کردارپرفیصلہ صادرکرنانہیں۔اسرائیل کیاندربھی جنگ،یرغمالیوں،حکومت اور مستقبل کے بارے میں اختلافات موجود ہیں ۔انسانیت کاتقاضاہے کہ حکومتوں کے فیصلوں کااحتساب کیاجائے،مگرقوموں اورنسلوں کو اجتماعی مجرم نہ بنایاجائے۔
ایران کے ساتھ تنازع نے اس بحران کوایک نئے اورزیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کیا۔28فروری2026کوامریکا اوراسرائیل نے ایران پرحملے شروع کیے،جس کے بعد ایران نے جوابی کارروائیاں کیں اورلبنان سمیت خطے کے دوسرے حصوں میں لڑائی پھیلتی گئی۔مارچ میں ہیومن رائٹس واچ نے خبردارکیاکہ مختلف فریقوں کے اعلی حکام کی دھمکی آمیز زبان،شہری بنیادی ڈھانچے کونشانہ بنانے کے اشارے اوربین الاقوامی قانون سے بے اعتنائی خطے کے قانونی وانسانی تحفظ کے نظام کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔(جاری ہے)