پی کے ایل آئی :جگر کے 1 ہزار کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل

عالمی ٹرانسپلانٹ مراکز کی صف میں شامل،1100 گردے کے ٹرانسپلانٹس
جو پودا لگایا آج تناور درخت بن گیا، 40 لاکھ مریض مستفید ہو چکے، وزیر اعظم 
لاہور، اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ )پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ نے ایک اور تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے جگر کے ایک ہزار کامیاب ٹرانسپلانٹس مکمل کر لیے جس کے بعد پاکستان کا یہ ادارہ دنیا کے بڑے جگر ٹرانسپلانٹ مراکز میں شامل ہوگیا ہے۔رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک جگر ٹرانسپلانٹ پر اوسطاً70 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ ڈالر تک کے اخراجات آتے تھے جبکہ پی کے ایل آئی کے قیام کے بعد پاکستان نے اب تک اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچایا ہے۔ماضی میں سالانہ تقریباً 500 پاکستانی جگر کی پیوند کاری کے لیے بھارت جانے پر مجبور تھے جہاں انہیں نہ صرف مالی مشکلات بلکہ غیر انسانی رویوں کا سامنا بھی رہتا تھا۔پی کے ایل آئی میں 80 فیصد مریضوں کو جدید ترین طبی سہولیات کے ساتھ مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ جبکہ استطاعت رکھنے والے مریضوں کے لیے جگر ٹرانسپلانٹ کے اخراجات صرف 60 لاکھ روپے تک مقرر ہیں جو دنیا بھر کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔اہم اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں 211 جگر ٹرانسپلانٹس، 2023 میں 213 جگر ٹرانسپلانٹس، 2024 میں 259 جگر ٹرانسپلانٹس مکمل ہوئے، جبکہ 2025 میں اب تک 200 سے زیادہ کامیاب ٹرانسپلانٹس ہو چکے ہیں۔اب تک ادارے میں ایک ہزار جگر ٹرانسپلانٹس، 1100 گردے کے ٹرانسپلانٹس، 14 بون میرو ٹرانسپلانٹس ہوئے اور 40 لاکھ سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا جا چکا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ کے جگر کی پیوندکاری کے 1000 کامیاب آپریشن کا سنگ میل عبور کرنے پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے جو پودا 2017 میں لگایا تھا وہ آج تناور درخت بن گیا جس سے اب تک 40 لاکھ مریض مستفید ہو چکے.ماضی میں پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی مذموم سازشیں ہوتی رہیں،انہوں نے کہا کہ پی کے ایل آئی 80 فیصد مریضوں کا علاج مفت کرتا ہے جس سے غریب عوام بین الاقوامی معیار کی سہولیات سے مستفید ہوتے ہیں۔