ابتدائی تحقیقات میں اغوا کا دعویٰ بے بنیاد صوفیہ رضامندی سے نعمان کے ساتھ گئی، مزید تحقیقات جاری
لاہور (کرائم رپورٹر) غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا اور برآمدگی کے کیس میں تفتیش کے دوران نیا موڑ سامنے آ گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں اغوا کا الزام ثابت نہیں ہو سکا اور خاتون کے اپنی مرضی سے جانے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر ملکی خاتون صوفیہ اپنی رضامندی سے شہری نعمان کے ہمراہ گئی تھی، جبکہ مبینہ اغوا کا دعویٰ ابتدائی تفتیش میں بے بنیاد قرار پایا ہے۔تحقیقات کے مطابق صوفیہ رواں سال مارچ میں بھی پاکستان آئی تھی، جہاں اس کی ایک نوجوان احمد سے دوستی ہوئی اور وہ اس کے ساتھ ہنزہ بھی گئی تھی۔ بعد ازاں ہنزہ میں اس کی ملاقات نعمان سے ہوئی اور دونوں کے درمیان دوستی قائم ہو گئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ صوفیہ نے پاکستان آمد سے قبل ہی نعمان کے ساتھ ہنزہ جانے کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ لاہور ایئرپورٹ سے خود نعمان کے ہمراہ روانہ ہوئی تھی۔تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مقدمے میں خود کو صوفیہ کا شوہر ظاہر کرنے والا شخص اس کا قانونی شوہر نہیں بلکہ نیپالی شہری ہے، جبکہ صوفیہ سوئٹزرلینڈ سے پاکستان آئی تھی۔پولیس کے مطابق سرور روڈ تھانے میں درج مقدمے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔