ویب ڈیسک: مراکش میں عید الاضحیٰ کی آمد پر ایک غیر معمولی اقدام کے تحت بادشاہ محمد ششم نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سال قربانی کا عمل انجام نہ دیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ملک کو درپیش معاشی، موسمیاتی اور زرعی بحران کے باعث مویشیوں کی تعداد میں شدید کمی واقع ہوئی ہے، جو جانوروں کی افزائشِ نسل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔یہ خصوصی پیغام مراکش کے وزیرِ اوقاف و اسلامی امور احمد التوفیق کے ذریعے سرکاری میڈیا پر نشر کیا گیا، جس میں شاہ محمد ششم نے کہا کہ "موجودہ حالات میں قربانی کی ادائیگی سے عوام بالخصوص تنخواہ دار اور متوسط طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہوگا، لہٰذا اس سال قربانی کی سنت مؤخر کی جائے۔"بادشاہ نے واضح کیا کہ قربانی اسلام میں سنت مؤکدہ ہے، لیکن جب کوئی معاشرہ معاشی یا ماحولیاتی بحران سے دوچار ہو، تو دین اس میں نرمی اور رعایت کی گنجائش فراہم کرتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس سال قربانی نہ کرنا شرعی طور پر قابلِ قبول ہے۔شاہ محمد ششم نے ساتھ ہی اپنی جانب سے 2 بھیڑوں کی قربانی کا اعلان بھی کیا تاکہ مذہبی روایت کی علامتی پاسداری برقرار رکھی جا سکے۔
جانوروں کی ضبطی اور سوشل میڈیا پر ردعمل:
بادشاہ کی اپیل کے بعد ملک بھر میں مویشی منڈیوں سے قربانی کے جانور بڑی حد تک غائب ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مبینہ طور پر سرکاری اہلکاروں کو عوام کے گھروں سے بھی قربانی کے لیے رکھی گئی بھیڑیں ضبط کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔کئی حلقوں نے اس اقدام کو عوامی آزادی میں مداخلت قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے، جب کہ دیگر افراد بادشاہ کی اپیل کو قومی مفاد میں ایک ضروری قدم قرار دے رہے ہیں۔
پس منظر:
مراکش اس وقت شدید موسمیاتی تبدیلیوں، خشک سالی اور مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث جانوروں کی خوراک اور افزائشِ نسل کا عمل شدید متاثر ہوا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر اس سال بڑے پیمانے پر قربانیاں کی گئیں تو ملک میں مویشیوں کی کمی آئندہ برسوں میں خوراک اور معیشت پر مزید منفی اثر ڈال سکتی ہے۔