گرگ آشتی رویے اور سیاست

 امجد علی

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور

انسان نے تہذیب، قانون، علم اور جمہوریت کی بلند و بانگ عمارتیں ضرور کھڑی کر لی ہیں، مگر اس کی جبلت کے تہہ خانوں میں آج بھی طاقت، لالچ اور مفاد پرستی کا وہی قدیم جنگل آباد ہے۔ اسی لیے ہر دور اور ہر معاشرے میں اصول کمزور کے لیے آہنی زنجیر بن جاتے ہیں، جبکہ طاقتور کے لیے موم کی ناک۔ بظاہر زمانہ بدل گیا، مگر انسان کی بہت سی فطری کمزوریاں آج بھی ویسی ہی ہیں جیسی صدیوں پہلے تھیں۔ہم ٹیکنالوجیکل ٹرانسفارمیشن کے دور سے گزر رہے ہیں۔ جنگل سمٹ رہے ہیں، آبادیاں برسات کے حشرات کی طرح پھیل رہی ہیں۔ بھیڑ، بکری، لومڑی، گیدڑ، چیتا اور شیر تو مرتے جا رہے ہیں، مگر ان کی حیوانی صفات نے نئے آشیانے تلاش کر لیے ہیں وہ ہجرت کر کے انسانی وجود کے بت کدوں میں ان کے کرداروں میں کثرت کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنگل میں درندگی اپنی اصل صورت میں نظر آتی ہے، جبکہ شہروں میں یہی رویے خوش اخلاقی، شائستگی اور تہذیب کا لباس زیب تن کیے سامنے آتے ہیں۔ نرم ہونٹوں پر مچلتی گرم مسکراہٹوں کے پیچھے نیتوں میں نوکیلے دانت چھپے ہوتے ہیں۔انہی حیوانی رویوں میں ایک نہایت خطرناک رویہ "گرگ آشتی" ہے۔ فارسی میں "گرگ" بھیڑیے کو اور "آشتی" صلح کو کہتے ہیں۔ یعنی ایسی صلح جو اخلاص پر نہیں بلکہ وقتی مفاد پر قائم ہو۔ بظاہر ہاتھ ملائے جائیں، گلے ملا جاتا ہے مگر دلوں میں دشمنی کروٹیں بدلتی رہتی ہے۔ حالات بدلتے ہی وہی ہاتھ گلے کا شکنجہ بنا دئیے جاتے ہیں۔
رات کے دھندلکے میں جنگل کے کنارے ایک چرواہا اور ایک بھیڑیا آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ آگ دھیرے دھیرے سلگ رہی تھی۔ بھیڑیا نرم لہجے میں بولا: "اب لڑائی سے کیا حاصل؟ آؤ صلح کر لیتے ہیں۔" چرواہے نے ہاتھ تو بڑھا دیا مگر اس کی نظریں مسلسل اپنے ریوڑ پر جمی رہیں، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ بھیڑیے کی فطرت نہیں بدلی، صرف بھوک کا انداز بدلا ہے۔ یہی گرگ آشتی ہے جہاں صلح کے پردے میں حملے کی تیاری چھپی ہوتی ہے۔انسانی معاشرے میں بھی یہی منظر بار بار دکھائی دیتا ہے۔ ڈراموں میں اکثر ایک غریب خاندان اپنی بیٹی کا رشتہ ایک نہایت امیر گھرانے میں لے کر جاتا ہے۔ جواب ملتا ہے: "کبھی ریشم میں ٹاٹ کا پیوند لگا دیکھا ہے؟" وقت گزرتا ہے، وہی لڑکی اپنی صلاحیت اور کردار سے اسی خاندان کی بہو بن جاتی ہے۔ مگر ساس کا لہجہ پھر بھی نہیں بدلتا۔ وہ کہتی ہے "اپنی اوقات مت بھولو۔" بہو جواب دیتی ہے: "اب ہماری اوقات ایک جیسی ہے، آپ اس گھر کے مالک کی بیوی ہیں اور میں اس گھر کے وارث کی۔" ساس تلخی سے کہتی ہے: "فرق اتنا ہے جتنا سر کے تاج اور پاؤں کی جوتی میں ہوتا ہے۔"یہ مکالمہ صرف دو عورتوں کی کشمکش نہیں، بلکہ اس ذہنیت کی تصویر ہے جو رشتہ قبول کر لیتی ہے مگر دل سے دوسری عورت کو کبھی قبول نہیں کر پاتی۔ سب کی موجودگی میں بظاہر مفاہمت ہو جاتی ہے، مگر اندر تحقیر پنجے گاڑھے رکھتی ہے۔ گاہے گاہے عزت کو چنتی رہتی ہے۔ یہی گرگ آشتی کی سماجی شکل ہے۔ایسے رویوں کو سمجھنے کے لیے ابلیس کے طریقہ واردات پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے۔ وہ انسان کو براہ راست تباہ نہیں کرتا بلکہ پہلے لالچی، خود غرض، ظالم اور مفاد پرست لوگوں کو تلاش کر دوستی کرتا ہے، پھر انہیں دوسروں کے خلاف استعمال کرتا ہے اور آخرکار انہیں ان کو ان کے جرائم کی سزاء￿  اور  اپنے کئے کے خوفناک انجام کے لیے تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ اس کی دوستی دراصل منافقت کا ایسا جال ہوتی ہے جس میں شکار خود چل کر داخل ہوتا ہے۔سیاست میں تو گرگ آشتی روز کا معمول ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ملک کے لیے خطرہ قرار دیتی ہیں، سخت الزامات لگاتی ہیں اور ایک دوسرے کے وجود تک کو تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہیں۔ گلے پھاڑ کر سٹرکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ لیکن جیسے ہی اقتدار کی بساط بچھتی ہے، وہی مخالف قوتیں حکومت سازی کے لیے ایک ہی میز پر بیٹھ جاتی ہیں، معاہدے ہوتے ہیں، مفاہمتیں بنتی ہیں، مسکراہٹیں تقسیم کی جاتی ہیں، "قائد اعظم" کو شاد کیا جاتا ہے اور اتحاد قائم ہو جاتے ہیں۔ اقتدار مستحکم ہوتے ہی وعدے، معاہدے اور اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور پرانی چپکلشیں، بلی چوہے کا کھیل دوبارہ سر شروع ہو جاتا ہے۔ بظاہر پردہ سکرینوں پر چلتے ان کے بلند افکار سے معلوم ہوتا ہیں کہ وہ انتہا کے قوم پرست اور عوام دوست ہیں کرسی پر بیٹھتے ہی سب مشکلیں کافور ہو جائیں گی ملک دنیا کی بہترین مضبوط معیشت بن جائے گا۔ عملی میدان میں اس کے بلکل برعکس ہوتا ہے بلکل ویسے جیسے بندے کی آنکھ کھل جائے اور خواب ٹوٹ جانے پر بندہ محل کے مخملیں آرام گاہوں سے سیدھا ٹوٹی چارپائی پر ہوتا ہے ان کے بلند و بانگ سیاسی دعووں اور وعدوں کی اس زیادہ رتی بھر اوقات نہیں ہوتی۔ لہذا کبھی بھی ان کی آپسی صلح، مفاہمت نہیں، گرگ آشتی ہوتی ہے۔بین الاقوامی سیاست سکرینوں پر بھی یہی مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ طاقتور ریاستیں امن، تعاون اور استحکام کے معاہدے کرتی ہیں، مگر پسِ پردہ معاشی مفادات، اسلحے کی دوڑ اور جغرافیائی بالادستی کی خواہشیں مسلسل سرگرم رہتی ہیں۔ آباد و خوشحال ملکوں کو الزامی جملوں میں جکڑ کر  طاقتور پنجوں میں دبوچ کر، صرف اس کے وسائل پر قبضے کے لیے دنوں میں اسے صفحہ ہستی سے نابود کر دیا جاتا ہے۔ سفارتی مسکراہٹیں بسا اوقات صرف اتنی دیر برقرار رہتی ہیں جب تک مفادات کا توازن قائم رہے۔ جیسے ہی مفاد خطرے میں پڑتا ہے، دوستی کی جگہ دشمنی لے لیتی ہے۔اصل فرق دولت، نسب، طاقت یا منصب میں نہیں  کہ وہ تو ہر لمحہ چلتی ہوا کے ساتھ اپنا سفر ایک گھر سے دوسرے گھر کرتی رہتی ہے مگر انسان کی اصل قوت اور پہچان کردار میں ہے۔ جس معاشرے میں تعلقات اعتماد کے بجائے مفاد پر قائم ہوں، وہاں صلح بھی عارضی ہوتی ہے اور دشمنی بھی وقتی۔ گرگ آشتی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر کبھی پائیدار امن پیدا نہیں کر سکتی۔ بھیڑیے کی فطرت اگر نہ بدلے تو اس کی مسکراہٹ بھی اس کے دانتوں کو نہیں چھپا سکتی۔ یہی تاریخ کا سبق ہے، یہی سیاست کی حقیقت اور یہی انسانی معاشرے کا سب سے بڑا المیہ۔ 
اسی لیے مفکر اقبال کا یہ شعر دو متضاد دنیاؤں کے اوصاف کو نہایت حسین پیرائے میں ہمارے سامنے رکھتا ہے۔ ایک طرف شاہین کا جہاں ہے، جہاں بلند ہمتی، خودداری، بصیرت اور پاکیزہ کردار کی پرواز ہے اور دوسری طرف کرگس کا جہاں، جہاں مردہ، بدبودار اور گلے سڑے اجسام کو نوچنے والی جبلت بسیرا کیے ہوئے ہے۔ 
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور

انسان کو ہر عمل سے پہلے ایک لمحہ ٹھہر کر اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ اسے اپنی چند سانسوں کی امانت کس طرح صرف کرنی ہے بھیڑیے کی طرح اپنوں ہی کی عزت، اعتماد اور حقوق کو چیر پھاڑ کر چند روزہ مفاد سمیٹنے ہیں، یا اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ بن کر دوسروں کے دکھ درد بانٹنے ہیں، کسی کے زخموں کا مرہم بننا ہے، اس کی مخلوق کے لیے رحمت اور آسانی کا سبب بننا ہے۔

رسول اکرم  کی غلامی اور اسوہ  حسنہ کی پیروی ہی انسان کو حیوانی جبلت سے نکال کر اشرف المخلوقات کے مقام تک پہنچاتی ہے۔ جو شخص نقشِ پائے مصطفیٰ  کو اپنا راستہ بنا لیتا ہے، وہ اپنے باطن میں رحمت، اخلاص، انصاف اور پاکیزگی کا ایک نیا جہان آباد کر لیتا ہے۔ وہی احسن تقویم کو پہنچتا ہے۔ دائمی عدم کے سمندر میں اٹھتی لہریں وقتی دنیائے موجود کے ساحلوں پر ہر پل کچھ نیا اچھال رہی ہیں اس پر مسلسل اثر پذیر ہیں۔ موجود کی دنیا کا ہر لمحہ گزشتہ کو غلط یا بیکار کر دیتی ہے اور نئے قوانین مرتب کرتی ہے ظاہر کے انہیں اصولوں کو ہم سائنس کہتے ہیں۔ تو کیا ہمیں وقتی اور ہر لمحہ غلط ثابت ہوتی چند سانسوں کی زندگی کو کمانے بنانے میں صرف کریں گے یا ابدی اور دائمی زندگی۔۔۔کل "جنت" کے حصول کے لیے آج میسر مختصر فواید پر قناعت کریں، اور ہوس لالچ، لوٹ کھسوٹ، مار دھاڑ اور چیر پھاڑ یعنی اپنے تمام حیوانی خصائص سے دستبردار ہونا ہو گا۔ گو فیصلے کے اس لمحے پر بندے کو اپنی کل دنیا، سب کچھ لٹ جانے کا خوف گھیر لیتا ہے۔ مگر اس قربانی سے وہ راستہ کھلے گا جسے اللہ نے قرآن میں فرمایا اور جہاں مردہ مچھلی ڑندہ ہو کر وہاں (پتھروں میں سے ) سے عجیب طریقے سے راستہ بنا کر پانی میں چلی گئی، یعنی اللہ وہاں سے آپ کو مدد دے گا جو آپ کے گمان میں کہیں تھا ہی نہیں۔۔

زندگی تو محض چند سانسوں اور چند لمحوں کا نام ہے، مگر انہی چند لمحوں میں کیا گیا ایک فیصلہ انسان کی ابدی منزل کا تعین کرتا ہے۔ میسر انتخاب صرف دو ہیں امن و آشتی یا گرگ آشتی، شاہین کی پرواز یا کرگس کی پرواز، رحمت کا راستہ یا درندگی کا سفر۔ آج کا یہی انتخاب کل کی دائمی کامیابی یا سزاء￿  کی بنیاد ہو گا۔ آپ کا آج کا فیصلہ کل کی دائمی بہشت یا برزخ ہے۔ ایک لمحہ 
کو رکیے ، سوچیئے، دل کی سنئیے، اپنے رب کی جنت میں آجائیے۔۔ 

گذر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے