سنگین جرائم کی تفتیش، پراسیکیوشن م ئوثر بنانے کا حکم

 آئی جی کی خواتین، بچوں پر تشدد، قتل اور اغوا کے مقدمات میں بروقت انصاف یقینی بنانے کی ہدایت
لاہور (کرائم رپورٹر) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم کی زیرصدارت سنگین جرائم کی تفتیش، چالاننگ اور پراسیکیوشن سے متعلق اجلاس سنٹرل پولیس آفس میں منعقد ہوا، جس میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی و تشدد، قتل اور اغوا سمیت سنگین جرائم کے مقدمات کی تفتیش اور قانونی کارروائی میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے محفوظ پنجاب ویڑن کے تحت خواتین اور بچوں کے خلاف زیادتی و تشدد کے مقدمات میں بروقت انصاف کی فراہمی ہماری ریڈ لائن ہے۔ پولیس افسران ایسے مقدمات کی بروقت یکسوئی پر خصوصی توجہ دیں اور قتل و اغوا سمیت سنگین جرائم کے کیسز جلد نمٹانے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ڈی پی اوز 2024ء سے اب تک کے چالانوں اور اشتہاری ملزمان کا ریجن وار ڈیٹا 15 نومبر تک پی آر ایم ایس پر اپ ڈیٹ کروائیں۔ متعلقہ ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کو مقررہ مدت میں اہداف مکمل کرنے کا ٹاسک دیا جائے، جبکہ سکروٹنی اور انسپکشن کے ذریعے عمل در آمد کی رپورٹ حاصل کی جائے۔ آئی جی پنجاب نے مزید ہدایت کی کہ ڈی پی اوز سنگین جرائم کی ایف آئی آرز کا خود جائزہ لیں اور ایس ڈی پی اوز و ڈی ایس پیز لیگل کے کردار اور کارکردگی کو مزید م ئوثر بنایا جائے۔ انویسٹی گیشن افسران عدالتوں میں پیشی سے قبل متعلقہ ڈی پی اوز کو مقدمات کے بارے میں بریف کریں اور مکمل تیاری و متعلقہ ریکارڈ کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوں۔ اجلاس میں تفتیشی افسران اور پراسیکیوشن کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے کے لیے مجوزہ اقدامات اور لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے آر پی اوز کو تفتیش اور چالاننگ کے نظام میں بہتری کے لیے اہداف مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن، اختیارات سے تجاوز اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی میں ملوث اہلکاروں کا کڑا احتساب جاری رہے گا۔ اجلاس میں ڈی آئی جی لیگل، ڈی آئی جی ویلفیئر اینڈ فنانس، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب اور اے آئی جی لیگل سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ ایڈیشنل آئی جی سا ئوتھ پنجاب، تمام آر پی اوز اور سی پی اوز بھی اجلاس میں شریک تھے۔