ایران مخالف ممالک ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کریں، عباس عراقچی کی اپیل

ایران مخالف ممالک ماضی کی غلطیاں دہرانے سے گریز کریں، عباس عراقچی کی اپیل

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خطے کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکا کی ممکنہ نئی فوجی کارروائی میں شریک ہونے سے گریز کریں اور واشنگٹن کو سفارتی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔

روسی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے بجائے خطے میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا تھا۔ ان کے مطابق ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک کو پہلے ہی خبردار کردیا تھا کہ امریکا کی جانب سے حملے کی صورت میں ان فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایرانی وزیر خارجہ نے خلیجی ممالک میں ایرانی میزائل گرنے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کا ذمہ دار تہران نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک اب اس حقیقت کو سمجھ رہے ہیں کہ امریکی فوجی اڈے انہیں تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور خود بھی اپنی حفاظت کرنے سے قاصر ہیں۔عباس عراقچی نے علاقائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ایران کے خلاف کسی نئی جنگ کی حمایت کرنے کے بجائے امریکا کو فوجی کارروائی سے روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کے مطابق خطے کو جنگ کی طرف دھکیلنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور امن کے قیام کے لیے کوششیں کرنی چاہئیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ خطے کے ممالک ماضی کے تجربات سے سبق سیکھ چکے ہوں گے اور کسی نئے تصادم کا حصہ بننے سے گریز کریں گے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی سے متعلق وضاحت

انٹرویو کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی سطح پر عدم موجودگی اور ان کی تصاویر جاری نہ کیے جانے سے متعلق بھی بات کی۔عباس عراقچی کے مطابق سکیورٹی خدشات کے باعث مجتبیٰ خامنہ ای کی تصاویر منظرعام پر نہیں لائی جارہیں، تاہم وہ بطور سپریم لیڈر ریاستی امور کی نگرانی کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ حکومتی اور ریاستی معاملات سے متعلق فیصلے مجتبیٰ خامنہ ای کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور وہ اپنی ذمہ داریاں فعال انداز میں انجام دے رہے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کو ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جو اہم شخصیات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اس لیے سپریم لیڈر کی سکیورٹی کے معاملے میں غیر معمولی احتیاط برتی جارہی ہے۔