فنانس ایکٹ کے تحت کی جانے والی ترامیم اور متعارف کروائی گئی نئی شقوں کے تحت انففورسمنٹ بھی بڑھائی جائے گی
اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ 2025 کے تحت منگل سے 389 ارب کے انفورسمنٹ اقدامات اور 312 ارب کے نئے ٹیکس لگ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق میوچل فنڈ کے ذریعے سرمایہ کاری پر عائد 25 فیصد ٹیکس بڑھ کر 29 فیصد ہو گیا ہے جبکہ سولر پینلز کی فروخت پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ کیا گیا ہے بجٹ 26-2025 کے بعد ایف بی آر کو کاروبار کیلئے رجسٹرڈ شناختی کارڈ نمبر کی ٹرانزیکشنز چیک کرنے کا اختیار مل گیا ہے۔اس حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) حکام کا کہنا ہے کہ فنانس ایکٹ 2025-26 منگل سے سے باضابطہ طور پر لاگو کردیا گیا ہے۔فنانس ایکٹ کے تحت کی جانے والی ترامیم اور متعارف کروائی جانے والی نئی شقوں کے تحت انففورسمنٹ بھی بڑھائی جائے گی۔نئے اقدامات کے تحت ٹی بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں سرمایہ کاری پر بھی ٹیکس عائد کر دیا ہے جب کہ ای کامرس اور آن لائن کاروبار کرنے والوں کیلئے ایف بی آر رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دے دی گئی ہے۔دوسری جانب حکومت کو پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی شرح 90 روپے تک بڑھانے کی اجازت مل گئی ہے، نئے مالی سال کیساتھ ہی تنخواہوں پر نئی ٹیکس سلیب پر بھی عمل درآمد شروع کر دیا گیا ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کاربن لیوی، سولرپینلز کی درآمد پر 10 فیصد سیلز ٹیکس، ہائی برڈ گاڑیوں کے پرزوں پر 4 فیصد اور زرعی ٹریکٹرز پر15 فیصد ڈیوٹی، آئی ڈراپس سمیت آنکھوں کی ادویات اور گلوکوز پر 10فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کردی ہے۔تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی کا بھی اطلاق ہو گیا ہے اور ساتھ ہی 109اداروں کو دی گئی ٹیکس چھوٹ پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ایک لاکھ روپے تک آمدن والے ملازمین کو ایک فیصد انکم ٹیکس دینا ہو گا جب کہ ساڑھے 8 لاکھ روپے سے زائد ماہانہ پینشن پر اب انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا۔پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد اور 70 لاکھ سے مہنگی گاڑی خریدنے کیلئے ایف بی آر سے سرٹیفکیٹ لینا ہوگا۔اس کے علاوہ سیکڑوں اشیا کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی،ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی کی شرح میں بھی کمی کا اطلاق کردیا گیا ہے جس سے صنعتی خام مال کی درآمد سستی ہوگی اور کاروباری لاگت و پیداواری لاگت میں کمی اور مینفویکچرنگ کو فروغ ملنے کے امکانات ہیں