برطانوی ڈرامہ نگار ٹام سٹوپارڈ 88 برس کی عمر میں اپنے گھر پر اپنے اہل خانہ کی موجودگی میں انتقال کر گئے
ادب اور تھیٹر کی دنیا کے عظیم ہستی، ٹام سٹوپارڈ، اپنے خاندانی ماحول میں پرامن طریقے سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے نمائندے کے مطابق، سٹوپارڈ کی زندگی کا اختتام انتہائی پرامن انداز میں ہوا، اور انہیں اپنی فکری اور منفرد تحریری صلاحیتوں کی وجہ سے عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔برطانوی ڈرامہ نگار کی سب سے مشہور تخلیق 1998 کی فلم "شیکسپیئر ان لو" ہے، جس کے لیے انہیں آسکر اور گولڈن گلوب ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کی تھیٹر کی زندگی 1960 کی دہائی سے شروع ہوئی، اور ان کے مشہور ڈراموں میں "لیو پول"، "دی رئیل تھنگ"، "آرکیڈیا" اور "روزن کرانٹز" شامل ہیں۔
ٹام سٹوپارڈ کے ڈرامے فلسفہ، سیاست، ادب اور انسانی جذبات کا حسین امتزاج سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے ادب و تھیٹر کی دنیا کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی وفات سے شائقین اور فنون لطیفہ کی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، اور انہیں ہمیشہ ان کے عمیق مکالموں، انسانی جذبات کی عکاسی اور تخیل کے حسین امتزاج کے لیے یاد رکھا جائے گا۔ برطانیہ کی حکومت نے انہیں سر کے خطاب سے نوازا تھا۔