انسدادِ دہشت گردی عدالت میں 7 سالہ بچے کی ضمانت منظور

ٹک ٹاک پر مبینہ ویڈیو شیئر کرنے پر سی ٹی ڈی نے دہشتگردی کا مقدمہ بنایا
تربت (خصوصی رپورٹ)انسدادِ دہشت گردی کے ادارے (سی ٹی ڈی) نے تربت میں 7 سالہ بچے صہیب ولد خالد کے خلاف دہشت گردی میں معاونت کا مقدمہ درج کر لیا۔ بچے پر الزام ہے کہ اس نے انسانی حقوق کے کارکن گلزار دوست بلوچ کی مبینہ ریاست مخالف تقریر پر مشتمل ویڈیو ٹک ٹاک پر شیئر کی، جسے ادارے نے "اشتعال انگیز مواد" قرار دیا۔منگل کے روز صہیب کے والد اسے انسدادِ دہشت گردی عدالت لے کر پہنچے، جہاں معزز جج نے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض بچے کی ضمانت منظور کرلی۔صہیب کی عمر صرف سات سال ہے، جس پر دہشت گردی کی دفعات لاگو ہونے پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور قانونی ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس عمر کے بچے پر ایسی دفعات کا اطلاق نہ صرف قانونی لحاظ سے متنازعہ ہے بلکہ انسانی اور اخلاقی بنیادوں پر بھی ناقابل قبول ہے۔یاد رہے کہ گلزار دوست بلوچ کو گزشتہ ماہ ایک احتجاجی مظاہرے میں مبینہ اشتعال انگیز تقریر پر گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت تربت سینٹرل جیل میں زیر حراست ہیں۔