محمد تسنیم رضا
بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کی ویران زمین پر بانو بی بی اوراحسان اللہ کی لاشیں شاید ہمارے معاشرے کے سب سے زیادہ منفی پہلوکی عکاسی کر رہی تھیں ۔بانو اور احسان اللہ کو غیرت‘‘ کے نام پر قتل کیا گیا۔ ان کاقتل کوئی انوکھی بات نہیں تھی، وہ بھی اْن ہزاروں لوگوں میں شامل ہو گئے جو اپنی پسند کی شادی،اپنی جذباتی لغزش یا کسی پرانی دشمنی کے نتیجے میں جان سے جاتے ہیں یا کسی جرگے کے کء ے گء ے فیصلے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں
۔ جرم جوبھی ہوقتل کا اختیار جرگے کو حاصل نہیں۔جرگہ کو معاشرہ جو اختیار دیتا ہے اس کی حیثیت اخلاقی ہوتی ہے۔اس کاداء رہ کا ر صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان مالی لین دین کے جھگڑوں کو سلجھا دے ،میاں بیوی کی لڑاء ی میں علیحدگی کا امکان ہو تو ان کی صلح کر وا کر گھر ٹوٹنے سے بچانے میں مدد کرے ،
"لوگوں کے باہمی جھگڑوں کے خاتمے اور دوستانہ تعلقات قائم کرانے میں کردار ادا کرے۔"
"جرگہ کا مقصد لوگوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے طویل اور تھکا دینے والیعدالتی طریقہ کار سے بچانا بھی ہوتا ہے اور عدالت کو غیر ضروری مقدمات کے بوجھ سے نجات دلانا بھی۔ جرگہ لوگوں کو جسمانی سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا، خاص طور پر جان سے مار دینے کا تو بالکل بھی نہیں، لیکن ہمارے ملک میں جرگہ یہ غیر قانونی اختیار استعمال کرتا ہے۔ اس جرگے" نے بانو سے پہلے بھی یہ اختیار استعمال کیا اور بانو کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں۔بلوچستان کے اس المییکیچند ہی ہفتوں بعد راولپنڈی کی سدرہ بی بی کو ایک جرگے کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔ سدرہ کا ’’جرم‘‘ تھا اپنی مرضی کی شادی کا فیصلہ۔ اس کے قتل میں باپ، سابق شوہر اور رشتہ دار ملوث پائے گئے اور پوسٹ مارٹم نے اس پر تشدد کی بھی تصدیق کی۔ سدرہ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنا چاہتی تھی۔ لیکن اس معاشرے میں عورت کے لیے محبت کا انتخاب، شوہر کے بے توجہی پر سوال اٹھانا یا رشتہ ختم کرنا جرمِ عظیم ہے۔ ’’غیرت‘‘ کے شور میں ہم نے ایک اور عورت کو جرگے کی بھینٹ چڑھا دیا۔
اسی دوران کراچی میں ایک لڑکی اور اس کے ساتھی ساجد مسیح کو جس کے بارے میں سنا ہے کہ اس نے دین اسلام بھی قبول کر لیا تھا (اس لیے اسے مسیح لکھنا درست نہیں)
ان کو بھی گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا، پولیس نے ابتدائی طور پر اسے غیرت کے نتیجے میں قتل قرار دیا۔ ان دونوں واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ بانو بی بی کی موت کوئی استثنائی حادثہ نہیں تھی بلکہ اس معاشرتی مرض کی ایک علامت تھی جو ہر روز ہماری خواتین کو نگل رہا ہے
یہاں سوال یہ ہے کہ ہماری غیرت صرف عورت کے لیے کیوں جاگتی ہے؟ کیا مرد کی کسی بدعملی یا کسی بچے پر ظلم کرنے والے کے لیے کبھی یہ ’’غیرت‘‘ سامنے آتی ہے؟
پاکستان میں عورت کو اپنی پسند کی شادی کرنے یا شوہر کے رویے سے نالاں ہو کر کوئی قدم اٹھانے کی پاداش میں جان سے مار دینا ایک عام روایت بن چکی ہے۔ ہم نے عورت کو اپنی جائیداد، اپنی ’’عزت‘‘ اور اپنے کنٹرول کی علامت بنا دیا ہے۔ اگر وہ اپنی پسند کے مطابق شادی کر لے تو بھائی غیرت میں آ جاتا ہے،ماں باپ کے سامنے اپنی پسند کا اظہار کرے تو ان کی پیشانی عرق ا?لود ہوجاتی ہے ، اگر بیوی شوہر کی عدم توجہی ،محبت سے محرومی یا اپنے فطری جذبوں کی تسکین میں کمی کا اظہار کرے تو شوہر کا خون کھول اٹھتا ہیاور وہ اسے بے غیرت کہہ کر اپنی غیرت کے نام پر قتل کر دیتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی غیرت مردوں کے لیے بھی موجود ہے؟
ان مردوں کے لء ے جو پانچ سال تک کے بچوں کو بھی نہیں چھوڑتے زندہ لوگوںکی تو بات ہی کیا قبریں تک ان مردوں کے ہاتھوں سے محفوظ نہی اور انہی مردوں کی عورتوں کے لء ے اتنی غیرت جاگتی ہے کہ جب تک عورت کوجان سے نہ مار دیں ان کی غیرت سوتی نہیں۔لیکن پاکستان میں مردوں کی جنسی بے راہ روی پر کبھی کوئی سوال نہیں اٹھتا۔ ہمارے ٹرکوں کے اڈے، ورکشاپیں، چائے کے ڈھابے ،تعلیمی ادروں کے ہاسٹلز حتی کہ ہمارے دینی مدارس تک ان غیر فطری تعلقات کے گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ یہ کوئی الزام نہیں بہت سارے واقعات جو رپورٹ ہو چکے ہیں اس کی تصدیق کرتیہیں۔وہ مرد جو عورت کو اس کے فطری تقاضوں کے صرف اظہار پر (میں فطری تقاضوں کی تکمیل کی بات نہیں کر رہا)قتل کر دیتے ہیں وہ خود اکثر غیر فطری فعل کے مرتکب پاء ے جاتیہیں ٹرک اڈوں، ورکشاپوں، ڈھابوں ، تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز اور مدرسوں میں جبر کے ساتھ ساتھ باہمی رضامندی والے تعلقات بھی پائے جاتے ہیں۔یعنی مردانہ جنسی بے راہ روی ایک حقیقت ہے، چاہے وہ جبر کے نتیجے میں ہو یا باہمی رضامندی سے۔
لیکن ان حقائق پر کوئی بات نہیں کرتا۔ نہ جرگہ بیٹھتا ہے، نہ غیرت جاگتی ہے، نہ قتل کے فتوے جاری ہوتے ہیں۔ معاشرہ خاموش ہے، جیسے یہ سب کچھ ’’معمول‘‘ کا حصہ ہو۔
کیا عورت کے فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے لء ے پسند کی شادی کرنا گناہ ہے؟ مانا کہ والدین کی مشاورت ضروری ہے لیکن بچوں پر اپنی مرضی مسلط کرنا بھی تو منع ہے ؟ کیا شوہر کی بے وفائی یا محبت سے محرومی کے بعد کوئی عورت اگر زندگی کا نیا فیصلہ کرتی ہے تو وہ موت کی سزا کی مستحق ہے؟ اور کیا مردوں کے غیر فطری اور غیر اخلاقی اعمال ’’چھوٹے‘‘ گناہ ہیں؟
ہمارامعاشرہ جو بیٹی کی پسند کی شادی پر "غیرت" کے نام پر قتل کو نہ صرف جائز سمجھتا ہے بلکہ اکثر فخر سے اس کا دفاع بھی کرتا ہے۔ جہاں بیٹی کی مرضی پر خاندانی غیرت مجروح ہو جاتی ہے، وہاں مدرسے کے ایک اندھیرے کمرے میں ہونے والی زیادتی پر کوئی جرگہ نہیں بیٹھتا، کوئی چہرہ غصے سے سرخ نہیں ہوتا، اور نہ ہی سماج کی "اجتماعی غیرت" کو کوئی دھچکا لگتا ہے۔ کسی ورکشاپ میں کام کرنے والے "چھوٹے" پر ہونے والے جنسی جبر، ٹرک کے نوعمر کلینر کے ساتھ ہونے والی زیادتی، یا کسی تعلیمی ادارے کے ہوسٹل میں "باہمی رضامندی" کی آڑ میں استوار کیے گئے غیر فطری تعلقات پر کوئی مذمت نہیں سنائی دیتی۔
مدارس میں روز اخبارات کی زینت بننے والے جنسی زیادتی کے کیسز میں ملوث ان مولویوں کے خلاف نہ کوئی عدالت سجتی ہے، نہ کوئی فتویٰ جاری ہوتا ہے، نہ ہی ان کے خلاف عوامی احتجاج برپا ہوتا ہے۔ بلکہ الٹا خاموشی، چشم پوشی، اور بعض اوقات مجرموں کا دفاع ہی دیکھنے میں آتا ہے۔
اس دوہرے معیار کی بھیانک تصویر اس وقت اور نمایاں ہو جاتی ہے جب اعداد و شمار بولنے لگتے ہیں۔ پاکستان کے صرف ایک صوبے میں، سال کی پہلی سہ ماہی میں ہی 116 خواتین کو قتل کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے بہت سی وہ ہوں گی جنہیں غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ صرف لاہور شہر کی ہی بات کریں تو پہلے تین مہینوں میں 151 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جب کہ بچوں سے زیادتی کے 47 مقدمات درج ہوئے۔ اور یہ تو صرف وہ مقدمات ہیں جو رپورٹ ہو گئے، نجانے کتنی خواتین اور معصوم بچے ایسے ہوں گے جو صرف رسوائی، تضحیک یا بدنامی کے ڈر سے خاموش رہ گئے۔
المیہ یہ ہے کہ ان تمام جرائم کا ارتکاب کرنے والے اسی معاشرے کے مرد ہوتے ہیں، جنہیں کبھی غیرت کی آگ لگا کر قتل کرتے دیکھا جاتا ہے، اور کبھی ہوس پوری کرنے کے لیے کمزوروں کو شکار بناتے ہوئے۔ یہ وہی معاشرہ ہے جو اپنی مرضی سے جینے والی عورت کو تو سنگسار کر دینے کے حق میں دلائل کے انبار لگا دیتا ہے، لیکن کم عمر بچوں کے ساتھ ہونے والی درندگی پر خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔
یہ بھیانک تضاد محض فرد کی خرابی نہیں، بلکہ اجتماعی شعور کی پستی ہے۔ وہ جرگے جو خاندانوں کی عزت بچانے کے لیے بیٹھتے ہیں، وہ صرف اس وقت فعال ہوتے ہیں جب کسی نے سماج کے "غیرت" والے اصول توڑے ہوں — جیسے پسند کی شادی۔ لیکن جب وہی سماج اپنی ہی اقدار کی دھجیاں اڑاتا ہے، کمسن بچوں کی معصومیت روندی جاتی ہے، یا دینی درسگاہیں جنسی جرائم کی آماجگاہ بن جاتی ہیں، تو وہی جرگے خاموش رہتے ہیں، وہی غیرت سلا دی جاتی ہے، اور وہی معاشرہ چشم پوشی کو اپنا مذہب بنا لیتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے سماجی رویوں کا احتساب کریں۔ غیرت کے معیار اگر واقعی اخلاقیات پر مبنی ہیں، تو پھر ان کا اطلاق ہر اس شخص پر ہونا چاہیے جو کسی انسان کو جسمانی، ذہنی یا جنسی نقصان پہنچائے، خواہ وہ عورت ہو یا مرد، مدرسے کا استاد ہو یا یونیورسٹی کا پروفیسر، وڈیرہ ہو یا مذہبی پیشوا۔
معاشرہ اسی وقت مہذب بنے گا جب اس کی غیرت صرف لڑکی کے پسند سے شادی کرنے پر نہیں، بلکہ بچوں سے درندگی، خواتین پر تشدد، اور طاقتور مجرموں کی پشت پناہی پر بھی تڑپے گی۔ جب جرم، مجرم، اور ظلم کی بنیاد پر احتساب ہوگا — نہ کہ رشتے، مرتبے یا مذہبی لبادے کو دیکھ کر۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہو گا کہ
"کیا غیرت صرف عورت کے لیے ہے؟ کیا مرد کے لیے کوئی معیار نہیں؟"
ہمیں چاہیے کہ غیرت کو قتل کے جواز کے بجائے معاشرتی انصاف کا پیمانہ بنائیں