10 سے 19 سال کی طالبات کے لیے صحت کی تعلیم کے منظم ماڈیولز شامل ، لاہور منتخب سکولز میں آگاہی دی جائے گی
لاہور ( خصوصی رپورٹ) یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (یو ایچ ایس) اور پنجاب حکومت نے منگل کے روز نوعمر طالبات کی صحت کے لیے لاہور کے سکولوں میں ایک پائلٹ پراجیکٹ شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اقدام وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویڑن برائے خواتین کے تحفظ اور بااختیاری کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت کے چار رکنی وفد نے چیئرمین وزیر اعلیٰ ٹاسک فورس برائے تعلیم مزمل محمود کی قیادت میں یو ایچ ایس کا دورہ کیا۔ وفد میں معیز نذیر ممبر بورڈ آف گورنرز پنجاب ایجوکیشن کریکلم ٹریننگ اینڈ اسیسمنٹ اتھارٹی، شکیل اے بھٹی رکن سی ایم ایجوکیشن ایڈوائزری اور امتیاز شاہد ایڈیشنل پروگرام ڈائریکٹر پنجاب ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پروگرام شامل تھے۔ وفد نے وائس چانسلر یو ایچ ایس پروفیسر احسن وحید راٹھور سے تفصیلی ملاقات کی۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر نادیہ نسیم اور دیگر اساتذہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پروفیسر احسن وحید راٹھور نے یونیورسٹی کی جانب سے تیار کردہ گائیڈ لائنز پیش کیں جس میں 10 سے 19 سال کی طالبات کے لیے صحت کی تعلیم کے منظم ماڈیولز شامل ہیں۔ ان میں غذائیت، ماہواری کی صحت و صفائی، تولیدی صحت، ذہنی بہبود، ڈیجیٹل سیفٹی اور خطرناک معاشرتی رویوں سے بچا ئو جیسے موضوعات شامل ہیں۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ ان رہنما خطوط کی بنیاد پر لاہور کے منتخب گرلز سکولوں میں بطور پائلٹ پراجیکٹ تعلیمی اور اگاہی پروگرام کا آغاز کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے فوکل پرسنز نامزد کیے گئے جو نصاب اور اساتذہ و سکول ہیلتھ ٹیموں کے لیے تربیتی منصوبہ تیار کریں گے۔پروفیسر راٹھور کا کہنا تھا کہ سکول صحت کی ترویج و بچا ئو کا پہلا پلیٹ فارم ہیں۔ منظم ہیلتھ ایجوکیشن کے ذریعے ہم بچیوں کو صحت مند زندگی گزارنے کے لیے اعتماد اور شعور فراہم کر سکتے ہیں جس سے غیر حاضری اور ڈراپ آ ئوٹ بھی کم ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یو ایچ ایس کا فلیگ شپ منصوبہ ''پیار ی بیٹی'' پہلے ہی تولیدی صحت کے حوالے سے اہم خلا کو پْر کر رہا ہے اور سکول پراجیکٹ اس کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے گا۔ مزمل محمود نے اسے بروقت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوعمر بچیوں کی صحت براہ راست قوم کے مستقبل سے جڑی ہے۔ انہیں بنیادی آگاہی اور لائف اسکلز فراہم کرنا وزیر اعلیٰ کے ویڑن کا حصہ ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ ایک حساس موضوع ہے جو ثقافتی رکاوٹوں کے تناظر میں محتاط نصاب کا متقاضی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے باہمی تعاون سے ہی یہ منصوبہ کامیاب ہو گا۔شکیل بھٹی نے کہا کہ نوعمری ایسا دور ہے جہاں درست رہنمائی سے خطرناک رویوں سے بچا ئو ممکن ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بچی لاعلمی یا عدم سہولت کے باعث پیچھے نہ رہ جائے۔امتیاز شاہد نے کہا کہ محکمہ تعلیم اس پراجیکٹ کو موجودہ اصلاحات سے ہم آہنگ کرنے میں مکمل تعاون فراہم کرے گا