لاہور اور گوجرانوالہ سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے۔
لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 398 تک جاپہنچا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ شرح 1000 سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جس سے سانس لینا دشوار اور صحت کے لیے خطرناک ہو گیا ہے۔ سول سیکرٹریٹ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 1018، ساندہ روڈ پر 997، راوی روڈ پر 820 اور جی سی یونیورسٹی کے اطراف 686 ریکارڈ ہوئی۔ دیگر علاقوں میں بھی آلودگی کی سطح بہت بلند ہے، جیسے ڈی ایچ اے فیز 8 میں 598، اقبال ٹاؤن میں 563، سید مراتب علی روڈ پر 561 اور صدر کے علاقے میں 548۔
گوجرانوالہ نے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 521 ریکارڈ ہوا ہے۔ فیصل آباد میں 275 اور ملتان میں 273 ہے۔ طبی ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ماسک کا استعمال کریں اور غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں تاکہ سانس اور آنکھوں کی بیماریوں سے بچا جا سکے۔ پنجاب میں جاری سموگ کی وجہ سے عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔