کو ئٹہ(نیٹ نیوز) عورت فاؤنڈیشن بلوچستان نے جنوری تا دسمبر 2025 کے دوران صوبے میں خواتین کے خلاف تشدد کی صورتحال پر مبنی اپنی سالانہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ برس بلوچستان میں خواتین کے خلاف سنگین نوعیت کے تشدد کے واقعات میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ میں جمع کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق خواتین پر تشدد کے 123 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں قتل، غیرت کے نام پر قتل، اغواء، ہراسانی، جنسی زیادتی، گھریلو تشدد اور خودکشی جیسے واقعات شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہ صرف صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ اس امر کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ تشدد کے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے، جو صورتحال کو مزید تشویشناک بنا دیتا ہے۔سال 2025 کے دوران بلوچستان میں مجموعی طور پر 65 خواتین اور 25 مرد قتل ہوئے، جن میں سے 33 خواتین اور 25 مردوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 2 خواتین نے گھریلو حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی، 5 خواتین کو ہراسانی، 9 کو گھریلو تشدد، 6 کو جنسی زیادتی اور 11 کو اغواء جیسے سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ تمام واقعات صوبے کے مختلف اضلاع میں رونما ہوئے، جو صوبائی سطح پر خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں۔سال 2025 میں خواتین اور بچوں کے سہولت مرکز (WJFC) کو بھی بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوئیں