نظریئے میں آزاد پاکستان کی ضرورت ہے

سفینہ سلیم
پاکستان وہ ملک جسے لاکھوں قربانیوں، صبر آزما ہجرتوں، بینام آہوں اورجاگتی راتوں کی دعاؤں کے بعد حاصل کیا گیاآج 77 برس گزرنے کے بعد ایک عجیب کشمکش میں الجھا ہوا ہے۔ یہ خط ارضی صرف ایک جغرافیہ نہیں تھا بلکہ ایک نظریہ تھا۔ ایک تصور تھا جسے علامہ اقبال نے اپنے خواب میں دیکھا اور قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی بے پناہ محنت اور غیر متزلزل قیادت کے ذریعے حقیقت میں ڈھالا۔ وہ خواب یہ تھا کہ مسلمان ایک ایسے ملک میں آزاد زندگی گزاریں گے جہاں انہیں مذہبی، سیاسی، سماجی اور معاشی آزادی حاصل ہوگی جہاں انصاف کا بول بالا ہوگا مساوات کا نظام قائم ہوگا اور ترقی ہر فرد کا مقدر بنے گی۔
مگر افسوس کہ آج ہم اس خواب کی تعبیر کے بجائے اس کی باقیات سے سوال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کی فضائوں میں ایک بڑا سوال گونج رہا ہے ہر باشعور شہری کے ذہن میں ایک تشویش پل رہی ہے ہر نوجوان کی نگاہ میں ایک خاموش چیخ چھپی ہوئی ہیکیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا وعدہ ہمارے بزرگوں سے کیا گیا تھا؟

ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ صبح کے اخبار سے لے کر شام کی خبروں تک ایک ہی منظرنامہ دہرایا جا رہا ہے سیاسی افراتفری، معاشی بدحالی، بے روزگاری، مہنگائی، بدامنی اور ریاستی اداروں کے درمیان خلیج۔ عوام اور ریاست کے درمیان وہ رشتہ جو اعتماد، خدمت اور تحفظ پر استوار ہونا چاہیے تھااب بدگمانی، لاتعلقی اور مایوسی میں بدل چکا ہے۔ سیاست جسے قومی خدمت کا ذریعہ ہونا چاہیے تھا آج محض اقتدار کی ایک لاحاصل جنگ بن چکی ہے جہاں نظریہ پس پشت اور مفاد سب سے آگے ہے۔

پارلیمان غیر مؤثر ہو چکی ہے عدلیہ کے فیصلے متنازعہ بن چکے ہیں عسکری ادارے ملکی سیاست کا حصہ تصور کیے جاتے ہیں اور میڈیا دباؤ اور سنسرشپ کا شکار ہو چکا ہے۔ عوام کے لیے جمہوریت ایک خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں رہی۔ انتخابات جنہیں عوام کی آواز بننا تھا آج محض ایک کھیل ہیں جن میں جیتنے والے پہلے سے طے ہوتے ہیں اور ہارنے والے مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں۔ شفافیت، غیرجانبداری اور عدل کے بغیر نہ جمہوریت باقی رہتی ہے نہ ریاست کا وقار۔
معاشی میدان میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں۔ ملک شدید ترین بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے روپے کی قدر روز بروز کم ہو رہی ہے زرمبادلہ کے ذخائر تشویشناک حد تک گر چکے ہیں اور بنیادی ضروریات زندگی عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں۔ آٹے کی قطاروں میں کھڑے افراد گیس کے بغیر چولہوں پر پڑے برتن بجلی کے بلوں سے لرزتی دیواریں اور ہر ماہ بڑھتی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس بات کی غماز ہیں کہ ریاست عام آدمی سے کتنی دور جا چکی ہے۔

یہ کہنا کافی نہیں کہ معیشت بحران میں ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ معیشت تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ تباہی محض اعداد و شمار میں نہیں بلکہ عام انسان کی روزمرہ زندگی میں صاف جھلک رہی ہے۔ حکومتیں قرض لیتی رہی ہیں ادارے وعدے کرتے رہے ہیں مگر عملی اقدامات ناپید رہے۔ جب تک ملک پیداوار نہیں بڑھائے گا جب تک برآمدات کو فروغ نہیں دیا جائے گا جب تک ٹیکس نیٹ میں وسعت نہیں آئے گی یہ ملک کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو پائے گا۔

ریاستی ادارے جو ملک کے محافظ اور عوام کے خادم ہونے چاہییں آج ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عدلیہ اور پارلیمان کے درمیان کشیدگی، عسکری اداروں کا سیاسی کردار، بیوروکریسی کی بے عملی، اور میڈیا کی جانب داری اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم ایک ادارہ جاتی بحران کے نرغے میں ہیں۔ جب ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہیں یا خاموش تماشائی بن کر توازن کھو دیتے ہیں تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

اور پھر سب سے اہم مگر سب سے نظر انداز شدہ پہلوتعلیم اور صحت۔ جو قومیں تعلیم پر سرمایہ کاری نہیں کرتیں ان کے لیے ترقی کا کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔ پاکستان میں تعلیم طبقاتی، سیاسی اور معیاری بحران کا شکار ہے۔ سرکاری اسکولوں میں سہولتوں کا فقدان، اساتذہ کی نااہلی، نصاب میں سیاسی مداخلت اور طبقاتی تفریق نے ایک ایسا نظام پیدا کیا ہے جو نہ علم دے رہا ہے نہ تربیت صرف رٹاسسٹم۔ دوسری جانب صحت کے شعبے میں حالات اور بھی تکلیف دہ ہیں۔ اور نجی اسپتال صرف ان کے لیے ہیں جن کے پاس دولت ہے۔ عام انسان یا تو موت کے انتظار میں لائنوں میں کھڑا ہوتا ہے یا قرض لے کر علاج کراتا ہے۔

معاشرتی زوال کا عالم یہ ہے کہ ہم برداشت، رواداری، اور اخلاقیات جیسے الفاظ کو بھول چکے ہیں۔ سوشل میڈیا نفرت کا ہتھیار بن چکا ہے جہاں ذاتیات پر حملے جھوٹے پروپیگنڈے، اور مذہبی، لسانی اور نسلی تعصب کی آگ مسلسل بھڑکائی جا رہی ہے۔ معاشرہ ایک ایسی سمت جا رہا ہے جہاں انسانیت کی کوئی قدر باقی نہیں جہاں مخالفت دشمنی بن چکی ہیاور جہاں اختلاف رائے کو غداری سمجھا جاتا ہے۔

لیکن کیا یہ سب کچھ ناقابل واپسی ہے؟ کیا ہم اس مقام تک آ چکے ہیں جہاں سے پلٹنا ممکن نہیں؟ نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ 
قومیں اندھیروں سے نکلتی ہیں بشرطیکہ ان میں بیداری پیدا ہو۔ پاکستان آج جس مقام پر کھڑا ہے اس کیباوجود ایک نئے آغاز کی امید بھی رکھتا ہے۔ ہمیں خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ قیادت کو خود احتسابی اختیار کرنی ہوگی عوام کو شعور پیدا کرنا ہوگا اور ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ تعلیم کو ترجیح دینی ہوگی صحت کو بنیادی حق بنانا ہوگا اور معیشت کو حقیقت پسندانہ بنیادوں پر کھڑا کرنا ہوگا۔

پاکستان کو بچانے کا وقت یہی ہے۔ اگر آج ہم نے یہ فیصلہ نہ کیا کہ ہم نے اپنی راہیں درست کرنی ہیں تو کل شاید یہ سوال کرنے کا وقت بھی نہ بچے۔ ہمیں قائداعظم کے اس اصول کو اپنانا ہوگا "ایمان، اتحاد، قربانی"۔ یہی تین ستون ہمیں بکھرے ہوئے حال سے نکال کر ایک متحد اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

پاکستان ایک عظیم ملک بن سکتا ہے۔ اس میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ قوم میں ہوتی ہیں وسائل، افرادی قوت قدرتی خزانے، اور سب سے بڑھ کر ایک عظیم مقصد۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم حقیقت کوسمجھیں جو صرف تقریروں، وعدوں اور دعووں پر نہیں بلکہ عمل، اخلاق، خلوص اور قربانی پر مبنی ہو۔کیونکہ نئی قوم کو اس پاکستان کی ضرورت ہے جو صرف نقشے پر نہیں نظریے میں بھی آزاد تھا۔