اے پی ایس حملہ اور 9 مئی احتجاج کے سویلینز میں کیا فرق ہے؟ آئینی بینچ

آرمی ایکٹ کی شق کالعدم قرار دی تو کلبھوشن کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکے گا: جسٹس مظہر ‘ جاسوس کا ٹرائل خصوصی عدالت میں ہوگا:وکیل
  آرمی پبلک سکول پر دہشت گردی کا حملہ ہوا، اس کے بعد 21 ویں ترمیم کی گئی: وکیل ‘دہشتگردی روکنا انتظامیہ کا کام ہے:جسٹس جمال مندوخیل

 اسلام آباد (آئی این پی )سپریم کورٹ آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دئیے ہیں کہ آرمی ایکٹ کی شق ٹو ون ڈی ٹو کالعدم قرار دینے سے کلبھوشن یادو کیس میں ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکے گا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس میں کہا کہ ملک کے ڈھائی صوبے دہشتگردی کی لپیٹ میں ہیں، ٹو ڈی ون ٹو کے کالعدم ہونے پر ملزمان کا ٹرائل کیسے ہوگا؟سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جاری ہے۔جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل 8(3) اے اگر میرے کیس میں محرک ہے تو پھر کوئی بنیادی حقوق نہیں رہیں گے، میری استدعا بس یہ ہے کہ سویلینز ملٹری ٹرائل میں نہیں آتے، میں پورے آرمی ایکٹ کو بلکل بھی چیلینج نہیں کر رہا، جسٹس منیب نے بھی اپنے فیصلے میں اس چیز کا حوالہ دیا ہے۔جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ گزشتہ روز ہمیں قائل کیا گیا کہ ملٹری ٹرائل فئیر ٹرائل ہوتا ہے۔دوران سماعت وکیل لطیف کھوسہ نے پھر سیٹ پر بیٹھے بیٹھے بولنے کی کوشش کی جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کھوسہ صاحب یہ نا کیجیے، آپ سینیر وکیل ہیں۔وکیل خواجہ جواد احمد حسین نے کہا کہ وفاق کے دلائل اس سے مختلف ہیں، پہلے وہ کہہ رہے ہیں کہ 8(3) اے کی بنیاد پر آپ نہیں دیکھ سکتے۔جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ کوئی ایسا رائیٹ جو کنسسٹنٹ ہو وہ چیلنج ہو سکتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ٹو ون ڈی 1967 میں ایڈ ہوا ہے، ڈی کی حد تک اوریجنل تھا، 1952 سے 1967 سے اج تک یہ ایکٹ چلا رہا ہے، ایف بی علی کیس میں متنازع ہوا تھا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے وہ بھی ہو سکتا یے، آج کل ہم اس میں بھی آ گئے ہیں کہ کوئی سیاسی جماعت اس طرح کی حرکت کرے تو کیا ہونا چاہیے، گزشتہ روز میں نے مہران بیس، اور مختلف واقعات کا ذکر کیا تھا۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ ٹو ون ڈی ون کے تحت سویلینز آرمی ایکٹ کے انڈر آتے ہیں یا نہیں؟ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ 9 مئی اور 16 دسمبر والے سویلینز میں کیا فرق ہے؟خواجہ احمد حسین نے کہا کہ 16 دسمبر والے دہشتگردی کے واقعات میں ملوث تھے، ان کے ٹرائل کے لیے بعد میں ترمیم کرنا پڑی تھی پھر ان کے ٹرائل ہوئے تھے، عام سویلین ملٹری ایکٹ کا سبجیکٹ نہیں، افواج پاکستان کے سول ملازمین پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے۔جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا ائیر بیسز پر حملہ کرنے پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے؟ جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ 16 دسمبر آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملہ ہوا، 9 مئی کو احتجاج ہوا، دونوں واقعات کے سویلینز میں کیا فرق ہے؟وکیل احمد حسین نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کا حملہ ہوا، اے پی ایس واقعہ کے بعد 21 ویں ترمیم کی گئی