ٹرمپ کے نئے احکامات، ایران پر مزید حملوں سے خطے میں کشیدگی کا خطرہ

ٹرمپ کے نئے احکامات، ایران پر مزید حملوں سے خطے میں کشیدگی کا خطرہ

مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کو ایران کے خلاف ممکنہ نئے حملوں کی تیاری کا حکم دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر بھرپور حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھا کر اسے مذاکرات اور ممکنہ طور پر ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنا ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر اشتعال انگیزی، وعدوں سے انحراف اور مذاکراتی اعتماد کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی عائد کیے۔رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں، اور ممکنہ کارروائی ہفتے کے اختتام تک کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس ممکنہ کارروائی کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ صدر کے کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل ممکنہ اہداف یا عسکری منصوبہ بندی پر بات نہیں کی جائے گی۔واضح رہے کہ ان اطلاعات کی باضابطہ امریکی تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ ایران کی جانب سے بھی اس حوالے سے فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا گیا ہے۔