فرانس میں مسلسل تیسرے ہفتے احتجاج، سیاسی کشیدگی میں اضافہ

فرانس میں مسلسل تیسرے ہفتے احتجاج، سیاسی کشیدگی میں اضافہ

فرانس میں مہنگائی، اخراجاتِ زندگی، تعلیمی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مسلسل تیسرے ہفتے بھی احتجاج جاری ہے، جبکہ ملک بھر میں مظاہروں کے پیش نظر حکومت نے غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کیے ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پیرس سمیت فرانس کے مختلف شہروں میں طلبہ، مزدور تنظیموں اور پیلی واسکٹ تحریک کے کارکنوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حکومت مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی، تعلیمی مسائل اور سرکاری خدمات کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔فرانسیسی حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے اور ممکنہ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں تقریباً 70 ہزار پولیس اور جنڈرمری اہلکار تعینات کیے ہیں۔ ٹریڈ یونینز کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں تقریباً 150 احتجاجی اجتماعات متوقع ہیں۔پیرس میں مظاہروں کے لیے سکیورٹی پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔ شہر کے وسطی علاقوں میں بعض احتجاجی مارچوں پر پابندی لگاتے ہوئے مظاہرین کو دارالحکومت کے بیرونی راستوں پر مخصوص روٹ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ میٹرو سروس اور بعض ریلوے اسٹیشنوں کی بندش کے باعث مظاہرین کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا بھی ہے۔حکومت نے دکانوں، تجارتی مراکز اور سرکاری عمارتوں کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ فرانسیسی وزیر داخلہ لاراں نونیز نے خبردار کیا ہے کہ توڑ پھوڑ، لوٹ مار یا تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور امن و امان خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔