ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے کی صورت میں یورپ کو توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے کہیں زیادہ بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ان کا یہ بیان جرمن چانسلر فریڈرک مرز کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے باعث یورپ کے توانائی اخراجات میں اضافے پر تشویش کے اظہار کے بعد سامنے آیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے گزشتہ سال جون میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا خیر مقدم کیا تھا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے مرز کے اس وقت کے بیان کا حوالہ بھی دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل ہم سب کی خاطر یہ گندا کام انجام دے رہا ہے۔عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو یورپ کو اس کے نتائج کی کہیں زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ ان کے بقول یورپ کے توانائی اخراجات میں 100 ارب یورو کا اضافہ اس بڑے نقصان کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہوگا جس کا سامنا ایران پر حملہ کرنے والوں کو کرنا پڑ سکتا ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گی جو ایرانی عوام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرخ لکیریں اب ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔واضح رہے کہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث یورپ کے توانائی اخراجات میں 100 ارب یورو، یعنی تقریباً 112 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی قیادت سے وابستہ رہنما محسن رضائی نے بھی یورپ کی جانب سے توانائی اخراجات میں اضافے پر تشویش کے اظہار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔محسن رضائی نے ایکس پر اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ جب یورپی رہنما جنگی جرائم کی حمایت میں خوشیاں منا رہے تھے تو کیا انہوں نے سوچا تھا کہ اس جنگ کے اثرات ان تک بھی پہنچ سکتے ہیں؟