کیپٹن (ر) صفدر کے خواتین سے متعلق بیان پر تنقید، مریم نواز کا ردعمل سامنے آگیا

کیپٹن (ر) صفدر کے خواتین سے متعلق بیان پر تنقید، مریم نواز کا ردعمل سامنے آگیا

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو خواتین کے بارے میں دیے گئے متنازع اور غیر مناسب ریمارکس پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

معاملے پر مریم نواز نے بھی ردعمل دیتے ہوئے اپنے شوہر کے بیان کو دلخراش قرار دیا اور خواتین کی خاموش جدوجہد اور دکھ کا ذکر کیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں مریم نواز نے لکھا کہ یہ وہ خاموش لڑائی ہے جو ایک عورت اور ایک بیوی بند دروازوں کے پیچھے لڑتی ہے۔ اسے اس وقت بھی ہمت سے کام لینا پڑتا ہے جب اسے محسوس ہو کہ وہ اندر سے ٹوٹ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لڑائیاں خاموشی سے لڑی جاتی ہیں اور کچھ زخم دکھائی نہیں دیتے۔یہ تنازع پنجاب کے ضلع چنیوٹ کے علاقے چناب نگر میں ختم نبوت کانفرنس سے کیپٹن (ر) صفدر کے خطاب کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے 1973 کے آئین کو مقدس قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں ختم نبوت اور آئین کے تحفظ کے حوالے سے گفتگو کی۔اپنے خطاب میں کیپٹن (ر) صفدر نے مولانا فضل الرحمٰن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں دفاعِ ختم نبوت اور آئین کے تحفظ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے علاوہ کس کو بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک خاتون نے مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں بات کی تھی، جس پر انہوں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مولانا ان کے لیے والد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے نماز کی مثال دی اور کہا کہ امام والد کی جگہ ہوتا ہے۔ ان کے بقول وہ مولانا فضل الرحمٰن کے لیے ان کے بیٹے اسد کی طرح ہیں۔کیپٹن (ر) صفدر نے مزید بتایا کہ انہیں ایک خاتون کی جانب سے پیغام موصول ہوا، جس میں ان کے شناختی کارڈ پر درج والد کے نام اور مولانا فضل الرحمٰن سے ان کے تعلق کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں انہوں نے خاتون کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیے جنہیں سوشل میڈیا صارفین نے نامناسب اور خواتین کی توہین قرار دیا۔ان کے خطاب کا سب سے زیادہ متنازع حصہ وہ ریمارکس بنے جن میں انہوں نے ایک خاتون کے جسم اور اس کی مرضی کے حوالے سے بات کی۔ ان بیانات پر سوشل میڈیا پر ردعمل سامنے آیا اور مختلف صارفین نے خواتین کے بارے میں اس اندازِ گفتگو پر تنقید کی۔