مولانا فضل الرحمان پر الزامات کا سلسلہ 1997 سے پہلے کا ہے، ریکارڈ نکالیں، کرپشن ثابت کریں
اسلام آباد (آن لائن): جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ وزراء نے صرف الزام تراشی کی ہے، تاہم وہ کوئی الزام ثابت نہیں کر سکے۔ ہم نہ جذباتی ہوتے ہیں اور نہ ہی صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہیں۔پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان پر لگائے جانے والے الزامات کا سلسلہ 1997 سے پہلے کا ہے اور ہم اس وقت سے ان سوالات کے سنجیدہ جوابات دیتے آ رہے ہیں۔ سب کچھ ریکارڈ پر موجود ہے، متعلقہ دستاویزات نکالیں اور کرپشن ثابت کریں۔ محض پروپیگنڈے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انہیں آئینہ دکھایا ہے، ریاست ہم سب کی مشترکہ ریاست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خان آف قلات کو اغوا کیا گیا ہے، ریاست انہیں بازیاب کروائے یا پھر یہ واضح کرے کہ کیا یہ سب کچھ ریاست کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔مولانا عبدالغفور حیدری نے ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز ملکی قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پورے ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نازیبا جملہ ضرور کہا، لیکن ہماری مقتدرہ نے ریاست کو بنگلہ دیش اور کشمیر کی صورت میں بیچا ہے۔ اگر ریاست کو ماں کے فرائض یاد دلائے جائیں تو بعض حلقے سیخ پا ہو جاتے ہیں۔ ہمیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں۔جے یو آئی رہنما نے الزام عائد کیا کہ بعض لوگوں کی پوری دولت دبئی اور سوئٹزرلینڈ میں موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری ہمارے دوست ہیں اور ان کے ساتھ سیاسی تعلقات بھی رہے ہیں، تاہم محسن نقوی آصف زرداری کے بھی نہیں بلکہ ان کے منہ بولے ہیں۔