شادی کے وقت بیوی کو دیا جانے والا سونا اس کی ملکیت تصور ہوگا لاہور ہائی کورٹ

بیوی کو چھ تولہ سونا واپس کرنے کا حکم کالعدم قرار، سونے کی مقدار کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی سونے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا: جسٹس انوار حسین
لاہور(آئی این پی ) لاہور ہائیکورٹ نے بیوی کو چھ تولہ سونا واپس کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔جسٹس انوار حسین نے واضح کردیا کہ شادی کے وقت بیوی کو دیا جانے والا سونا اسی کی ملکیت ہوتا ہے، تاہم شوہر کی جانب سے سونا چھیننے کا الزام ثابت کرنا بیوی کی ذمہ داری ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے بیوی کو چھ تولہ سونا واپس کرنے سے متعلق9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ شادی کے وقت بیوی کو دیا جانے والا سونا اس کی ذاتی ملکیت تصور ہوگا، تاہم اگر بیوی یہ الزام عائد کرے کہ شوہر نے اس سے سونا چھین لیا تھا تو اس الزام کو ثابت کرنے کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس انوار حسین نے شہری محسن علی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے فیصلہ جاری کیا، عدالتی فیصلے کے مطابق بیوی نے جولائی 2019 میں پہلے دعوی دائر کیا تھا، جس میں سونے کی مقدار کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی سونے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔بعدازاں خاتون نے اکتوبر 2019 میں دوسرا دعوی دائر کرتے ہوئے شوہر سے چھ تولہ سونا واپس کرنے کی استدعا کی، عدالت نے نشاندہی کی کہ دوسرے دعوے میں بھی متعلقہ گواہوں کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر نے بیوی کو 17 گرام سے زائد سونا دینے کا اعتراف کیا تھا، تاہم بیوی اپنے اس الزام کو ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ شوہر نے اس سے چھ تولہ سونا چھین لیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے بھی عدالت میں چھ تولہ سونا چھیننے کے الزام اور اس کے ثبوت سے متعلق دلائل دئیے۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں بیوی کو چھ تولہ سونا واپس کرنے کا حکم برقرار نہیں رکھا جا سکتا، عدالت نے فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے اس حد تک کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کی درخواست جزوی طور پر منظور کرلی۔عدالت نے واضح کیا کہ نان و نفقہ اور سامان جہیز سے متعلق سابقہ عدالتی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی جائے گی۔