ہراسانی کا تصور صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں‘ صنفی امتیاز، دھمکانے، تذلیل، توہین آمیز سلوک، مخاصمانہ رویہ اور اختیارات کا ناجائز استعمال بھی ہراسانی ہوگا
قانون پر اس کی مکمل روح کے مطابق مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ غیر جنسی نوعیت کی ہراسانی کا سامنا کرنے والے افراد بھی قانونی تحفظ سے محروم نہ رہیں:قرارداد کا متن
ایم ایل ون منصوبے کا تخمینہ 800ارب روپے ہے: حنیف عباسی کا سینیٹ میں اظہار خیال‘ایوان بالا میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور پاکستان سٹڈی سنٹر ترمیمی بل منظور کر لئے گئے
اسلام آباد( آن لائن‘آئی این پی ) قومی اسمبلی نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرارداد میں واضح کیا گیا ہے ہراسانی کا تصور صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں بلکہ صنفی امتیاز، دھمکانے، تذلیل، توہین آمیز سلوک، مخاصمانہ رویے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو بھی ہراسانی کے زمرے میں شامل کیا جائے گا۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمانی نے قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔قرارداد کے متن کے مطابق کسی رویے کو ہراسانی قرار دینے کے لیے جنسی پیش قدمی یا مطالبے کا ہونا ضروری نہیں، کیونکہ صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور ہراسانی کی سنگینی محض اس وجہ سے کم نہیں ہوجاتی کہ اس میں جنسی نوعیت کا کوئی عنصر شامل نہیں۔قرارداد میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 14 اور 25 کا حوالہ دیتے ہوئے ہر شہری کے وقار، مساوات اور تحفظ کے بنیادی حقوق کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ایوان نے کام کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے سے تحفظ کے قانون 2010 اور 2022 کی ترامیم کے تحت صنفی امتیاز کو بھی ہراسانی کی قانونی تعریف میں شامل قرار دیا۔قرارداد میں وفاقی حکومت اور تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ موجودہ قانون پر اس کی مکمل روح کے مطابق مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ غیر جنسی نوعیت کی ہراسانی کا سامنا کرنے والے افراد بھی قانونی تحفظ سے محروم نہ رہیں۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ہراسانی، تذلیل اور صنفی امتیاز سے پاک کام کی جگہ فراہم کرنا کوئی خصوصی مراعت نہیں بلکہ انسانی وقار، مساوات اور انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔دریں اثناء وزارتِ قومی صحت نے ہیپاٹائٹس سے متعلق رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دی، جس کے مطابق پاکستان ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے دنیا میں سرفہرست ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 38 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہیں۔رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی میں مبتلا ہیں جبکہ ہر سال تقریبا 48 ہزار افراد اس مرض کے باعث جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ وزارتِ قومی صحت کی رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2024 کے دوران پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے 88 ہزار سے زائد نئے کیسز سامنے آئے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان ہیپاٹائٹس سے ہونے والی اموات کے حوالے سے بھی دنیا کے دس سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔دریں اثناء سینیٹ میں وزیر ریلوے حنیف عباسی نے بتایا ایم ایل ون منصوبے کا تخمینہ 800ارب روپے ہے جبکہ ریلوے انجنوں کی مرمت پر45 ارب روپے سے زائد کے اخراجات آئیں گے‘انہوں نے کہا اکثریتی ریلوے انجن کنڈم حالت میں پڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ گذشتہ 10سالوں سے ریلوے لوکو موٹیو کی سروس نہیں ہوئی تھی وہ شروع کی ہے‘ ایوان بالا میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور پاکستان اسٹڈی سنٹر ترمیمی بل منظور کر لئے گئے،دونوں بل وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چودھری نے پیش کئے ۔جمعہ کو سینیٹ اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے پاکستان اسٹڈی سنٹرز ترمیمی بل 2026پیش کیا۔قائمقام پریذائیڈنگ آفیسر نے بل پر شق وار رائے لینے کے بعد بل کو کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا۔زیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ترمیمی بل 2026پیش کیا۔پریذائیڈنگ آفیسر نے بل پر شق وار رائے لینے کے بعد بل کو کثر ت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا۔