غزہ کی جنگ میں اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں موجود واحد اسپتال، الاودہ اسپتال کو دو ہفتے کے محاصرے کے بعد خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، شمالی غزہ کے جبلایا علاقے میں واقع اس اسپتال کو خالی کرایا جا چکا ہے، جس کے بعد اب شمالی غزہ میں کوئی بھی صحت کا مرکز موجود نہیں ہے۔ڈاکٹر صالح، جو اسپتال میں خدمات انجام دے رہے تھے، نے بتایا کہ اسپتال خالی کرنے کے بعد علاقے کے ہزاروں مریضوں کو طبی امداد سے محروم کر دیا گیا ہے۔ شمالی غزہ میں جنگ اور محاصرے کے باعث پہلے ہی طبی سہولیات شدید متاثر تھیں، اور اب اسپتال کی بندش نے صورتحال مزید خراب کر دی ہے۔اسرائیلی آپریشنز میں اب تک 72 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے اس اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور فوری طور پر امدادی سامان اور طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
صحت کے ماہرین اور امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اسپتال کی بندش سے شمالی غزہ میں ایک وسیع پیمانے پر انسانی بحران جنم لے سکتا ہے، جہاں زخمیوں اور بیماروں کو علاج معالجے کے لئے کہیں اور جانے کا کوئی موقع نہیں رہا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ فوری طور پر سیاسی دباؤ ڈال کر جنگ بندی کروائی جائے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔اس موقع پر غزہ کے رہائشیوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا ہوا ہے اور وہ اپنی زندگیاں بچانے کے لئے محفوظ مقامات کی تلاش میں ہیں۔ اسپتال کی بندش کے بعد طبی عملے کا بھی حال غیر یقینی اور پریشانی کا شکار ہے کیونکہ وہ اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہیں رہے۔