لاہور ہائیکورٹ:قتل کیس کے سزایافتہ3ملزم 10سال بعد بری

 گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی ،پوسٹمارٹم تاخیر سے ہوا،دلائل 
لاہور (خصوصی رپورٹ )لاہور ہائیکورٹ نے10برس بعد دہرے قتل کیس میں تینْ ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ سنادیا، عدالت نے دو ملز موں کی سزائے موت اور ایک کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے کر بری کردیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس عبہر گل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا، ملزموں کی جانب سے ایڈووکیٹ ناصر ٹوانہ پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ملز موں کیخلاف 2012 میں خوشاب کے تھانہ نوشہرہ میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا ،ٹرائل کورٹ نے 2016 میں دو کو سزائے موت اور ایک کو عمر قید کی سزا سنائی ،وکیل کے مطابق چشم دید گواہوں کی موقع پر موجودگی ثابت نہیں ہوئی جبکہ پوسٹمارٹم بھی تاخیر سے کرایا گیا،وکیل کے مطابق الزام تھا کہ عدالت پیشی کیلئے جاتے وقت فائرنگ کی گئی جبکہ ریکارڈ کے مطابق وقوعہ کے رو ز مقتولین کی کوئی پیشی نہیں تھی ، لاہور ہائیکورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے ملزموں کو بری کردیا ۔2رکنی بینچ نے 2ملزموں کی سزائے موت اور ایک کی عمر قید کالعدم قرار دیدی