سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
دنیاکی سیاست دراصل ایک ایساسمندرہے جس کی موجیں کبھی سکوت میں نہیں رہتیں۔یہاں طاقت کاتلاطم،مفادکابھنور،اورقوموں کی حرص وہوس ہرلمحہ نئے مناظرتراشتی ہے۔یہ وہی عالمی شطرنج ہے جہاں کل کامہرہ بادشاہ بن جاتاہے اورآج کا بادشاہ محض ایک کمزورپیادہ رہ جاتاہے۔تاریخ کے اوراق پرنگاہ ڈالئے توہرصدی یہی سبق دہراتی ہے کہ عالمی سیاست میں کوئی دوستی دائمی نہیں اورکوئی دشمنی ہمیشہ کیلئے لکھی نہیں جاتی۔قرآن حکیم نے ہمیں پہلے ہی یہ حقیقت سمجھادی تھی:
یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔(آل عمران:140))
یہی آیت گویاہمارے سامنے تاریخ کی ابدی منطق رکھتی ہے۔طاقت اورکمزوری،عروج اورزوال،یہ سب دنوں کاکھیل ہے۔کل روم اورایران دنیاکے فرماںرواتھے،آج ان کے کھنڈرتاریخ کے سیاحوں کیلئیعبرت کاسامان ہیں۔کل سپین کی سلطنتِ غرناطہ کاچراغ پورے یورپ کوروشنی دیتاتھا،مگرآج اس کی محرابیں صرف خون کے آنسوبہاتی ہیں۔دنیا کی سیاست دراصل طاقت کے توازن اورمفادات کے ادل بدل کاایک مسلسل کھیل ہے اورجیساکہ ہم جانتے ہیں کہ عالمی سیاست ایک شطرنج ہے۔دوستیاں وقتی،دشمنیاں عارضی۔ اصل چیزمفادہے؛جہاں کل کادوست آج حریف اورآج کامخالف کل شریکِ سفربن سکتاہے۔برصغیرکے موجودہ حالات اس حقیقت کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔
انڈیاآج اسی سچائی کے شکنجے میں ہے۔اسی تسلسل میں آج ہم دیکھتے ہیں کہ انڈیاجواپنے آپ کوابھرتی ہوئی عالمی طاقت قرار دیتاہیعالمی سیاست کے ایسے نازک موڑپرکھڑاہے جہاں ہرراستہ اسے آزمائش کے دریامیں دھکیل رہاہے۔امریکا،جودہلی کا سب سے بڑاتجارتی وعسکری شراکت داررہاہے،اب اپنی رگوں میں سردمہری دوڑارہاہے۔چین،جوکل تک دشمنِ جان تھا،آج مسکرا کرمصافحہ بڑھارہاہے۔اورروس،جوبرسوں سے پرانادوست تھا،اب کبھی نظراندازاورکبھی پھریادکرکے دہلی کے دروازے پر دستک دیتاہے۔
انڈیاکیلئے یہ سب کوئی معمولی صورتِ حال نہیں۔ایک طرف وہ اپنے ملک کی معیشت کوسہارادینے کیلئے امریکاپرانحصارکرتارہا، مگراب امریکی ٹیرف اورتجارتی رکاوٹوں نے اس کی معیشت کی سانسیں تنگ کردی ہیں۔لاکھوں نوکریاں داؤپرلگ چکی ہیں اور سرمایہ دارانہ معجزے کاخواب ٹوٹنے لگاہے۔دوسری طرف چین کے ساتھ اس کی سرحدی تلخیاں ابھی تک تازہ ہیں،لیکن دہلی اسی چین سے دوستانہ باتیں کرنے پرمجبورہے۔اورپھر روس جسے مودی حکومت نے ایک وقت نظراندازکیااب دوبارہ روس کے تلوے چاٹ کرسیاسی مکالمے میں داخل ہو رہا ہے۔
یہ سب محض سفارتی تبدیلیاں نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی کہانی کے باب ہیں۔کہانی یہ ہے کہ انڈیانے امریکاکی دوستی پراتنااعتماد کیاکہ اپنے پرانے تعلقات ایران اورروس کے ساتھ بھی قربان کرڈالے۔ایران سے سستاتیل لینابندکردیا،روسی تعلقات کوثانوی بنادیا، اوربیجنگ کے ساتھ محاذآرائی کوہوادی۔مگرآج جب واشنگٹن نے دہلی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرکہاکہ’’ہماری ترجیح ہمارے تجارتی مفاد ہیں،تمہاری سلامتی نہیں‘‘،تودہلی کی سیاسی کایاپلٹ گئی۔
امریکا،جس پردہلی نے اپنی معیشت کاسہارارکھا،اب پیٹھ پھیررہاہے۔تجارتی معاہدے معطل،ٹیرف کی تلوارلٹک رہی ہے،اور لاکھوں نوکریاں خطرے میں ہیں۔واشنگٹن نے دہلی کویہ سبق دے دیاہے کہ دوستی نہیں،صرف سودے بازی ہے۔چین،جس کے ہاتھوں گلوان کی وادی میں انڈین خون بہا،اب مسکرارہاہے۔وزیر خارجہ وانگ یی دہلی آتے ہیں ،معدنیات،پروازوں اورتجارت پر بات کرتے ہیں۔دہلی سن بھی رہاہے اورسوچ بھی رہاہے۔دشمن پراعتماد؟یہی وہ سوال ہے جو مودی حکومت کوپریشان کررہاہے۔
روس پرانی رفاقت،مگردھول جمی ہوئی۔کبھی نظرانداز،کبھی دوبارہ یاد۔اجیت ڈوبھال اورجے شنکرماسکوکے چکرلگارہے ہیں۔ گویادہلی اپنی پرانی غلطی پرپردہ ڈالناچاہتاہے مگرنادم دکھائی نہیں دیتاکہ سیاست کی مکاری نے اسے یہ سکھایاہی نہیں۔
ایران؟کل تک قریب ترین سپلائرتھا۔سستاتیل دیتاتھامگرامریکاکے ایک اشارے پرانڈیانے اس سے منہ موڑلیا انڈیانے2019میں امریکی دباؤپرایران سے تیل لینابندکیا ۔ یہ فیصلہ دہلی کی معیشت کیلئے ایک خودکشی کے مترادف تھا۔ایران قریب تھا،تیل سستاتھالیکن دہلی نے واشنگٹن کے اشارے پرقربانی دی۔اب اگریہی دباروسی تیل پربھی آگیاتو دہلی کی معیشت گویااپنے پاؤں پرکلہاڑی مارلے گی اوردہلی کی معیشت نہ صرف تاش کے پتوں کی طرح بکھرسکتی ہے بلکہ دہلی کی معیشت گھٹنوں پرآجائے گی۔یہی وہ موقع ہے جب انڈیاکواحساس ہورہاہے کہ عالمی بساط پرایک ہی طاقتورکھلاڑی پرانحصارکرناخودکشی کے مترادف ہے۔سیاست میں جسے ہم اتحادیوں کی تنوع کہتے ہیں،وہی حکمت عملی دہلی کیلئے ناگزیرہو چکی ہے۔
مگرکیایہ سب دہلی کے ہاتھ میں ہے؟مگرسوال یہ ہے کہ کیاچین اورروس دہلی کیلئے وہ خلا بھرسکیں گے جوامریکاچھوڑرہاہے؟ اورکیاواشنگٹن کبھی دوبارہ وہی گرمجوشی لوٹاسکے گا؟کیاوہ اپنے پرانے دشمن چین پراعتمادکرسکتاہے؟کیا چین مودی کے موجودہ کردارپراعتبارکرسکتاہے؟کیاروس کے ساتھ دوبارہ وہی گرمی پیداہوسکتی ہے؟اورکیاواشنگٹن کبھی پھرویسا دوست بن سکے گاجیساٹرمپ کے دورمیں تھا؟
ٹرمپ کے دورِحکومت میں انڈیاجس قدرگرمجوشی سے امریکاکے قریب آیاتھااوردہلی اورواشنگٹن کے درمیان دوستی کے بڑے چرچے تھے اورمودی عوامی اجتماع میں خوشامدانہ انداز میں ٹرمپ کی دلجوئی کیلئے"مائی بیسٹ فرینڈ ٹرمپ"کہہ کرمخاطب کرکے اقوام عالم کواپنی کامیاب دوستی اورسیاست کاسرٹفکیٹ وصول کرنے کی کوشش کرتارہا،آج اس میں ایک سردمہری اوردل شکستہ آہٹ آچکی ہے۔امریکی قیادت نے انڈیاکویہ احساس دلایاہے کہہماری دوستی کسی غیرمشروط عشق کانام نہیں بلکہ ایک تجارتی سودے بازی ہے۔امریکا نے تجارتی گفت وشنیدکوغیرمعینہ مدت کیلئے مؤخرکرکے دراصل انڈیاکوبتایاہے کہ’’دنیاکی طاقتوں کی بساط پرکوئی بھی شراکت داری ابدی نہیں ہوتی‘‘۔اس موقع پرانڈیاکی نظریں ایک بارپھراپنے پرانے حریف چین کی طرف اٹھ رہی ہیں۔
امریکاکے حالیہ سخت فیصلے انڈیاکیلئے غیرمتوقع تھے۔دہلی کے حکمراں اس سچائی کاسامناکرنے کیلئے تیارنہ تھے کہ واشنگٹن محض دوستانہ لہجے میں بات نہیں کرتابلکہ اپنے تجارتی مفادکو سب پرمقدم رکھتاہے۔امریکانے انڈیاکے ساتھ جاری تجارتی گفت و شنید کوغیرمعینہ مدت کیلئے معطل کرکے جوجھٹکادیاہے،دہلی اس حقیقت کیلئے تیارنہ تھاکہ واشنگٹن کبھی بھی دوست کے چہرے کے پیچھے سوداگرکی آنکھیں دکھاسکتاہے۔یہ وہی انڈیاتھاجوکل تک سمجھتاتھاکہ وائٹ ہاس کی دہلیزاس کیلئے ہمیشہ کھلی رہے گی لیکن یہ مکافاتِ عمل ہے،مودی نے جوبویا،وہی کاٹناپڑے گا۔
تجارت کی بساط پرامریکاانڈیاکاسب سے بڑاپارٹنرہے۔133/ارب ڈالرکی سالانہ تجارت میں دہلی اپنی معیشت کی سانسیں گنتاہے۔ ہیرے،موتی،دوائیں،کپڑااورالیکٹرانک سامان یہ سب امریکی منڈی پرانحصارکرتے ہیں۔لیکن اب وہی منڈی اپنے دروازے نیم وا کرکے مودی کی عقل کوٹھکانے پرلگاکردہلی کوسوچنے پرمجبورکررہی ہے کہ کیاسب کچھ ایک ہی ٹوکری میں رکھ دیناعقلمندی تھی؟اب جب ٹیرف اورتجارتی رکاوٹوں نے اس بہتے دریاپربندباندھ دیاہے تولاکھوں روزگارداؤپرلگ گئے ہیں۔
جب ٹیرف کی تیزدھاران برآمدات پرگری توکارخانوں کے پہیے سست پڑگئے۔نئے آرڈرمنسوخ ہوگئے،اورلاکھوں مزدوروں کے سروں پربیروزگاری کی تلوارلٹکنے لگی۔ایک وقت تھاجب دہلی اپنے معاشی معجزے پرفخرکرتاتھا،آج وہ معجزہ واشنگٹن کے ایک حکم سے بکھرتادکھائی دے رہاہے بلکہ منہ کے بل آن گراہے۔ نئے آرڈرز منسوخ،برآمدات معطل،اورکارخانوں میں بے یقینی،یہ وہ کیفیت ہے جوانڈیاکیلئے معاشی زوال کی دستک دے رہی ہے۔
گلوان کی وادی میں بہنے والاخون آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کوزہرآلودکیے ہوئے ہے اورگلوان وادی کے برفیلے پتھروں پربہنے والاخون دونوں قوموں کے تعلقات میں جم گیاہے۔وہ جھڑپ محض ایک واقعہ نہ تھی بلکہ ایک زخم تھاجواعتمادکی رگ پر لگالیکن سیاست کی منطق کچھ اورہے؛دہلی اب انہی ہاتھوں کوتھامنے اورانہی کے پاؤں چومنے پرآمادہ ہے جنہوں نے اس کے جوانوں کومٹی میں سلادیاتھامگرعالمی سیاست کے بدلتے تیوردہلی کومجبورکررہے ہیں کہ وہ اسی چین کے دروازے پردستک دے جسے کل تک اپنی سلامتی کیلئے سب سے بڑاخطرہ قراردیتاتھا۔یہی وہ مکافات عمل کے لمحات ہیں جب دہلی نے اپنی آنکھیں بیجنگ کی سمت دوڑائیں ہیںاسی چین کی طرف جوکل تک سرحدپرخون بہارہاتھااور آج مفاہمت کے گیت گارہاہے۔
مودی حکومت نے ایک وقت ایسابھی دیکھا جب روس جیسا پرانا حلیف نظراندازہوااوراس سے آنکھیں پھیرلیں لیکن آج دہلی کو یہ احساس ہورہاہے کہ ماسکوکے بغیراس کاسفارتی کمرہ ادھوراہے۔اجیت ڈوول اورپھر وزیر خارجہ ایس جے شنکرکادورہ ماسکو اسی پشیمانی کی علامت ہیں۔اب دہلی چاہتاہے کہ روسی دروازہ دوبارہ کھٹکھٹایاجائے،چاہے دیرہی کیوں نہ ہوگئی ہو۔(جاری ہے)