مفادکے سو داگراوراقتدارکے مسافر

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
چینی وزیرخارجہ وانگ یی کادہلی آنااوراعلی سطحی مذاکرات اس امرکی علامت ہیں کہ انڈیانئی راہیں تلاش کررہاہے۔وانگ یی کا دہلی آنا محض ایک رسمی ملاقات نہ تھی،یہ ایک پیغام تھا کہ’’ہم دشمن رہ کربھی ہمسائے ہیں اورہمیں ساتھ رہنے کی راہیں نکالنی ہوں گی‘‘۔دونوں ملکوں نے تجارتی تعلقات کی بحالی،معدنیات کی فراہمی، کھاد،براہ راست پروازوں اور ویزوں کے اجرء اپراتفاق کر کے ماضی کے زخموں پرمرہم رکھنے اورتعلقات کونرم کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ گویاسردجنگ کے برفیلے پانی پرپہلی نرم لہر تھی۔
چین اورانڈیاکی سرحددنیاکی سب سے پیچیدہ سرحدوں میں شمارہوتی ہے۔انڈیااورچین کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ اب بھی سرحدی تنازعات ہیں۔جب تک یہ عقدہ حل نہ ہو،اعتمادکادریانہیں بہہ سکتا۔دونوں ممالک ایک جنگ لڑچکے ہیں اورعدم اعتمادکی دیواراب بھی کھڑی ہے۔مذاکرات کی میزپربارہابیٹھنے کے باوجودکوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہوئی اوراعتماد کادرخت جڑنہیں پکڑسکااورعدم اعتماد کایہ سایہ اب بھی ان کے تعلقات پرچھایاہواہے۔یادرہے،یہ وہی تنازعہ ہے جس نے دونوں کوایک جنگ تک پہنچایا۔
ایک اورپہلویہ ہے کہ امریکامیں آرایس ایس کے پیروکاربڑی تعدادمیں موجودہیں۔یہ لوگ دہلی اورواشنگٹن کے تعلقات کوکسی نہ کسی شکل میں زندہ رکھنے کیلئے دباڈالتے رہیں گے مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ دباان تعلقات کووہی استحکام دے سکے گاجوکل کبھی ہواکرتاتھا؟سیاسی حقیقت یہی ہے کہ ماضی جیسی ہم آہنگی شایداب برسوں تک واپس نہ آسکے۔
امریکادنیاکی سب سے بڑی طاقت اورسب سے بڑی معیشت ہے۔انڈیااسے چھوڑنہیں سکتالیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دہلی جتنی سرمایہ کاری امریکی نظام میں کرچکاہے،اتنی اس نے کہیں اورنہیں کی۔یہ سرمایہ کاری اب بوجھ میں بدل چکی ہے۔دہلی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں؛وہ واشنگٹن کی بے رخی کوسہنے پرمجبورہے۔مگرساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ استحکام اوراعتمادجوکبھی تھا،اب تحلیل ہوچکاہے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ خطے میں ہونے والی اس ساری سفارتی ہلچل کے مقابلے میں پاکستان کہاں کھڑاہے؟دہلی اگرچین اور روس کی طرف جھک رہاہے توکیااسلام آباداس موقع کوسفارتی سرمائے میں بدل رہاہے؟اب یہ معاملہ مقتدرقوتوں کیلئے ایک چیلنج ہوگاکہ اسلام آبادکواپنے پتے کیسے کھیلنے ہوں گے؟سوال یہ ہے کہ اس پورے کھیل میں پاکستان کہاں کھڑاہے؟قرآن ہمیں متنبہ کرتاہے :یہ دن ہم لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔(العمران:140)
یہی آیت ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کے ایام کبھی ایک کے پاس اورکبھی دوسرے کے پاس ہوتے ہیں۔پاکستان کوچاہیے کہ آنے والے دنوں کی تیاری کرے تاکہ یہ تغیراس کے حق میں ثابت ہو۔قرآن حکیم ہمیں یہ بھی یاددلاتاہے کہ:اوران کے مقابلے کیلئے جوکچھ قوت تم جمع کر سکتے ہواورباندھے ہوئے گھوڑے(تیاررکھو)تاکہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں پررعب ڈال سکو۔(الانفال:60)
پاکستان کواپنے سفارتی ودفاعی خطوط میں اسی الہامی اصول کوبنیادبناناہوگا،تاکہ خطے کی بدلتی شطرنج میں وہ محض مہرہ نہیں بلکہ ایک باوقارکھلاڑی ثابت ہو۔
یہ سب سوالات صرف انڈیاکیلئے نہیں بلکہ پورے برصغیرکیلئے اہم ہیں کیونکہ دہلی کی ایک حرکت اسلام آبادکیلئے نئے مواقع بھی پیداکرسکتی ہے اورخطرات بھی۔پاکستان کیلئے یہ وہ لمحہ ہے جب اسے اپنی خارجہ پالیسی کے پتے درست ترتیب دینے ہیں۔اگر دہلی چین کے قریب جاتاہے تواسلام آبادکویہ دیکھناہوگاکہ بیجنگ کاتوازن کس کے حق میں جھکتاہے ۔اگر دہلی ماسکوکادرکھٹکھٹاتا ہے توپاکستان کویہ سوچناہوگاکہ روسی تعلقات میں اپنی جگہ کیسے بنائی جائے۔اوراگردہلی واشنگٹن کے ساتھ دوبارہ گرمجوشی کی کوشش کرتاہے تواسلام آبادکواپنی حکمتِ عملی نئے سرے سے ترتیب دیناہوگی۔ یہ وہ وقت ہے جب امتِ مسلمہ کیلئے بھی ایک بڑاسبق ہے۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کی سیاست محض الفاظ کاکھیل نہیں،طاقت اورتیاری کاامتحان ہے۔جوقوم اپنی قوت تیاررکھتی ہے وہی بساطِ سیاست پرعزت سے کھیلتی ہے،ورنہ دوسروں کے فیصلوں کی دستاویزمیں صرف تماشائی رہ جاتی ہے۔
انڈیا آج جس دوراہے پرکھڑاہے،وہاں ایک طرف امریکاکاحالیہ کرداراوردوسری جانب چین اورروس کی پیشکش ہے۔مگریہ فیصلہ دہلی کوکرناہوگاکہ وہ کس سمت رخ کرے۔اور خطے کے دیگرممالک،بالخصوص پاکستان،کویہ موقع غنیمت سمجھ کراپنی خارجہ پالیسی میں وسعت اورگہرائی پیداکرنی ہوگی کیونکہ تاریخ کاسبق یہی ہے کہ وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو وقت کی کروٹ کے ساتھ اپنے قدموں کی سمت بدلنے کی حکمت رکھتی ہیں۔
انڈیاکی خارجہ پالیسی آج ایک ایسے موڑپرکھڑی ہے جہاں ہرراستہ کسی نہ کسی خطرے کی طرف جاتاہے۔امریکاکی بے رخی، چین کی مشروط دوستی اورروس کی دوبارہ دستک یہ سب دہلی کیلئے ایک امتحان ہیں اورتاریخ کافیصلہ ہمیشہ ان کے حق میں ہواہے جوبدلتے وقت کے ساتھ اپنی بساط دوبارہ بچھانے کاہنررکھتے ہیں۔انڈیا کی موجودہ سفارتی پالیسی ایک ایسے مسافرکی مانند ہے جوبیابانِ سیاست میں بھٹک رہاہے۔اس کے سامنے تین راستے ہیں:امریکا،چین اورروس لیکن ہرراستے میں کانٹے بھی ہیں اور سراب بھی۔امریکاکاراستہ بظاہردولت مندہے مگربے اعتباری کے ریگزارسے بھراہواہے۔چین کاراستہ امیددلاتاہے مگراس کے ساتھ خون کے دھبے بھی چپکے ہوئے ہیں۔روس کاراستہ پراناہے مگراس پر دھول جمی ہے اورنئے سرے سے اس کی صفائی درکارہے۔
یہ وہ لمحہ ہے جب دہلی کویہ سمجھناہوگاکہ’’طاقت کے کھیل میں مستقل دوست نہیں ہوتے،صرف مستقل مفادہوتے ہیں‘‘۔یہ قول محض مغربی دانشوروں کانہیں بلکہ اسلامی فکرکابھی عین خلاصہ ہے۔’’ وہ تمہیں بس کچھ ایذاہی پہنچاسکتے ہیں،اگروہ تم سے جنگ کریں گے توپیٹھ پھیرجائیں گے اورپھران کی مددنہیں کی جائے گی‘‘۔(العمران:111)
یہ آیت گویاان سب قوتوں کیلئے اعلان ہے جوخودکو ناقابلِ شکست سمجھتی ہیں۔اللہ کی بساط پرکوئی طاقت ابدی نہیں۔پاکستان کیلئے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی سفارت کاری کومحض ردِعمل کی سیاست تک محدودنہ رکھے بلکہ ایک فعال اورحکمت آمیزکردار اداکرے۔اسلام آبادکویہ سوچناہوگاکہ بدلتے عالمی توازن میں وہ کہاں کھڑاہے۔اگردہلی ماسکواوربیجنگ کی طرف بڑھتاہے تو پاکستان کواپنی جگہ مضبوط کرناہوگی تاکہ وہ کسی حاشیے پرنہ ڈالاجائے۔اگرواشنگٹن دہلی کے ساتھ دوبارہ قریب آتاہے تو پاکستان کواپنی خارجہ پالیسی میں توازن قائم رکھنا ہوگا۔
یہ وہ لمحہ ہے جب’’قومیں خواب دیکھ کرنہیں بلکہ حقیقتوں کوپہچان کرجیتی ہیں‘‘۔پاکستان کویہ پہچانناہوگاکہ حقیقت یہی ہے۔عالمی سیاست کی بساط پرزندہ رہنے کیلئے ہمیں اپنے وسائل پراعتماد،اپنے اتحادپریقین،اوراپنے ایمان پرکامل بھروسہ کرناہوگا۔یقیناانڈیا آج ایک دوراہے پرکھڑاہے۔تین راستے:امریکا،چین،روس،ہرراستہ دشوار،ہرموڑپر خطرہ  
امریکا:سب سے بڑی معیشت،مگربے اعتباری کی دھند۔
چین:سب سے بڑاہمسایہ،مگرخون کے دھبوں کے ساتھ۔
روس:پرانادوست،مگراب پرانی دوستی پرزنگ چڑھاہوا۔
یہی دہلی کی اصل آزمائش ہے۔طاقت کے کھیل میں مستقل دوست نہیں ہوتے۔صرف مستقل مفادہوتے ہیں۔پاکستان کیلئے یہ موقع ہے۔ کیااسلام آباداس تبدیلی کواپنے فائدے میں بدل سکے گا؟یاپھرہمیشہ کی طرح دوسروں کے فیصلوں کاتماشائی رہے گا؟ 
یادرکھیے!وہی قومیں تاریخ میں زندہ رہتی ہیں جواپنے وقت کے امتحانوں میں کامیاب ہوتی ہیں۔انڈیاآج اس امتحان میں گرفتارہے۔ پاکستان کیلئے سوال یہ ہے کہ کیاوہ اس امتحان کوایک موقع میں بدل سکتاہے؟اگرپاکستان نے اپنی حکمتِ عملی کوبروقت اورمؤثر طورپرترتیب دیاتویہ وقت ہمارے لیے ایک نئی تاریخ کاآغازہوسکتاہے۔اوراگرہم نے اسے گنوادیاتوہم محض دوسروں کے فیصلوں کے صفحات میں ایک حاشیہ بن کررہ جائیں گے۔قرآن کہتاہے
اگراللہ تمہاری مددکرے توتم پرکوئی غالب نہیں آسکتا،اوراگروہ تمہیں چھوڑدے توپھرکون ہے جوتمہاری مددکرے؟(العمران:160)
یہی وہ آیت ہے جوہمیں اصل سبق دیتی ہے۔قوموں کی نجات صرف حکمتِ عملی سے نہیں بلکہ ایمان،اتحاداورعزم سے ہوتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جوپاکستان کواختیارکرناہوگا۔ یہی اصل سبق ہے۔قوموں کوبچانے والی چیزمحض سفارت کاری نہیں،بلکہ ایمان، عزم اورتیاری ہے۔انڈیاکیلئے یہ بحران ہے۔پاکستان کیلئے یہ موقع ہے۔