افریقی ملک ایتھوپیا کے امہارا ریجن میں جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے افراد کے کیمپ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم 16 شہری ہلاک جبکہ 22 زخمی ہوگئے۔
حملے میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد بے گھر افراد نشانہ بنے۔مقامی ذرائع کے مطابق ڈرون حملہ جنوبی وولو کے علاقے میں واقع المعروف ترک کیمپ پر کیا گیا، جہاں مسلح تنازع کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے والے افراد نے پناہ لے رکھی تھی۔ کیمپ میں تقریباً 1800 سے زائد بے گھر افراد رہائش پذیر تھے۔عینی شاہدین کے مطابق حملہ 29 اکتوبر کو دوپہر کے وقت ہوا، جس کے دوران کیمپ کو متعدد مرتبہ ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈرون نے تقریباً 15 منٹ کے وقفے سے کم از کم پانچ حملے کیے، جس کے نتیجے میں کیمپ میں شدید تباہی پھیل گئی۔حملوں کے باعث پلاسٹک سے بنے متعدد عارضی خیموں میں آگ بھڑک اٹھی، جس سے وہاں موجود افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا موقع بھی نہ مل سکا۔ واقعے کے بعد زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے ڈیسّی شہر بھیجا گیا۔
مقامی رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین حاملہ خواتین، ایک آٹھ سالہ بچی اور اسکول کے طلبہ بھی شامل ہیں۔ حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کے باعث علاقے میں سوگ کی فضا پھیل گئی۔ ایک مقامی ذریعے کے مطابق کم از کم 15 افراد کو ایک ہی اجتماعی قبر میں دفن کرنا پڑا۔یہ کیمپ ان افراد کے لیے پناہ گاہ بنا ہوا تھا جو امہارا ریجن میں جاری مسلح تنازع اور بدامنی کے باعث اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ کیمپ میں بڑی تعداد میں خواتین، بچے اور دیگر بے گھر افراد موجود تھے۔تاحال حملے کی ذمہ داری کسی بھی فریق نے قبول نہیں کی، جبکہ مقامی سطح پر حملے کے ذمہ داروں اور اس کے پس منظر سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔