واشنگٹن: امریکی نمائندے ٹام بیرک نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کسی ابتدائی سفارتی مفاہمت تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔
انہوں نے اس پیش رفت میں پاکستان اور قطر کے کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں مزید اضافے سے قبل عارضی طور پر فوجی کارروائیاں روک دیں۔گلف نیوز کے مطابق ٹام بیرک نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے اتحادی ممالک نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے بالخصوص پاکستان اور قطر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ علاقائی ممالک کی سفارتی سرگرمیوں سے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا راستہ کھولنے میں مدد ملی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارت کاری کو موقع دینا اور کشیدگی میں کمی لانا انتہائی ضروری ہے۔ٹام بیرک نے امریکا اور ایران دونوں پر زور دیا کہ وہ کچھ وقت کے لیے جنگ بندی یا فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفہ کریں تاکہ خطے میں جاری تناؤ کو کم کیا جا سکے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔
امریکی نمائندے نے کہا کہ واشنگٹن اور تہران ابتدائی مفاہمت کے حوالے سے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔ ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے اور ممکنہ معاہدے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔تاہم ٹام بیرک نے واضح کیا کہ فوجی کارروائیوں میں عارضی وقفے کا مطلب تنازع کا فوری اور مکمل خاتمہ نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اس طرح کے وقفے سے فریقین کو صورتحال کا جائزہ لینے، کشیدگی کم کرنے اور کسی وسیع تر سیاسی حل کی جانب پیش رفت کے لیے وقت مل سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے نزدیک پاکستان اور قطر جیسے علاقائی ممالک کی سفارتی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کو آگے بڑھانے میں اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم ہو سکتی ہے۔