ریاض: سعودی عرب کی جانب داغے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو سعودی اتحادی افواج نے فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے سعودی عرب نے پاکستان اور قطر کی سفارتی اور ثالثی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر مشرقی ریجن اور الخرج گورنریٹ میں خطرے کے الرٹ جاری کیے گئے تھے، جنہیں بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔سعودی فوجی اتحاد کے ترجمان کے مطابق حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مشرقی ریجن کو نشانہ بناتے ہوئے تین بیلسٹک میزائل فائر کیے گئے۔ تاہم، سعودی دفاعی نظام نے میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک کر تباہ کر دیا۔میزائل حملوں کے ممکنہ خطرے کے باعث متعلقہ علاقوں میں حفاظتی اقدامات کیے گئے اور شہریوں کو خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے الرٹ جاری کیا گیا۔ بعد ازاں حکام نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد خطرے کے الرٹ واپس لے لیے۔
تہران میں اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے
دوسری جانب سعودی وزارت خارجہ نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے حوالے سے بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندوں نے ایرانی دارالحکومت تہران کا دورہ کیا، جہاں ان کی اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ، مکالمے کی حوصلہ افزائی اور موجودہ بحران کے فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ تھا۔ ان رابطوں کا مقصد مذاکرات کے لیے راستے کھولنا اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو مؤثر بنانا ہے۔سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی قیادت میں ہونے والی ان ملاقاتوں میں پاکستان اور ترکیہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ پاکستانی وفد کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی، جبکہ ترکیہ کی جانب سے انٹیلی جنس حکام نے شرکت کی۔ وفد کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور جاری بحران کے حل کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کی حمایت
سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان اور قطر کی جانب سے جاری ثالثی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی رابطوں اور مذاکرات کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب چاہتا ہے کہ بحران کے تمام فریق تہران میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج اور پاکستان و قطر کی کوششوں کے ساتھ مثبت انداز میں آگے بڑھیں، تاکہ کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پُرامن حل کی راہ ہموار ہو سکے۔سعودی حکام نے مذاکراتی رابطے کھلے رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات ضروری ہیں جو خطے کو دوبارہ فوجی کشیدگی کی طرف جانے سے روک سکیں اور کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے میں مدد دیں جو بحران کے خاتمے اور پائیدار امن کی بنیاد بنے۔
خطے میں امن کے لیے سفارت کاری پر زور
سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے کردار کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق ان ممالک کی مشترکہ کوششوں کا مقصد خطے میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانا اور دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر امن کے امکانات بڑھانا ہے۔
حالیہ میزائل حملوں اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں سفارتی کوششوں کو مزید اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ ایک طرف سعودی دفاعی نظام نے میزائل حملوں کو ناکام بنانے کی اطلاع دی، تو دوسری جانب تہران میں ہونے والے اعلیٰ سطحی رابطوں کے ذریعے مذاکرات اور سفارتی حل کی کوششیں جاری رہیں۔