جکارتہ: انڈونیشیا میں جنگلات اور زمینوں پر لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی فضائی آلودگی نے ستمبر 2026 کے دوران اندازاً 3 ہزار 560 افراد کی جان لے لی۔
فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں اضافے کا انکشاف ایک تازہ تحقیقی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ہیلسنکی میں قائم تحقیقی ادارے سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (CREA) کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والی آلودگی کے باعث اموات کی تعداد اگست کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہوگئی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے دوران انڈونیشیا کے تقریباً 5 کروڑ 78 لاکھ افراد کو غیر صحت بخش سے لے کر انتہائی خطرناک فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا۔ جنگلات اور زمینوں میں لگنے والی آگ، جسے مقامی زبان میں کارہوتلا کہا جاتا ہے، بالخصوص کلیمانتان اور سماٹرا کے علاقوں میں فضائی آلودگی کی شدت میں اضافے کا اہم سبب بنی۔تحقیقی رپورٹ کے مطابق آگ سے خارج ہونے والے باریک زہریلے ذرات پی ایم 2.5 کی قلیل مدتی نمائش کے باعث اموات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ صرف کلیمانتان کے چار صوبوں میں تقریباً ایک ہزار 470 اموات کا تعلق جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والے دھویں سے جوڑا گیا، جبکہ سماٹرا کے پانچ صوبوں میں تقریباً ایک ہزار 420 اموات اسی آلودگی کے باعث ہوئیں۔
رپورٹ میں فضائی آلودگی کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا گیا ہے کہ ستمبر میں انڈونیشیا میں آبادی کے لحاظ سے اوسط پی ایم 2.5 کی سطح 36 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی، جو عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی سالانہ تجویز کردہ حد 5 مائیکروگرام سے سات گنا سے بھی زیادہ ہے۔علاقائی اعداد و شمار کے مطابق کلیمانتان میں پی ایم 2.5 کی اوسط سطح 120 مائیکروگرام فی مکعب میٹر جبکہ سماٹرا میں 51 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ گئی، جس سے ان علاقوں میں فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال واضح ہوتی ہے۔
تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ ستمبر کے دوران انڈونیشیا میں فضائی آلودگی سے ہونے والی مجموعی طور پر اندازاً 5 ہزار 310 اموات میں سے ایک ہزار 750 اموات شہری اور صنعتی آلودگی سے منسلک تھیں۔ ان میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج اور آلودگی کے دیگر ذرائع شامل ہیں۔