انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ اور فضائی آلودگی سے ستمبر میں 5 ہزار 310 افراد ہلاک

انڈونیشیا میں جنگلاتی آگ اور فضائی آلودگی سے ستمبر میں 5 ہزار 310 افراد ہلاک

جکارتہ: انڈونیشیا میں شدید خشک سالی کے باعث بھڑکنے والی جنگلاتی آگ کے زہریلے دھوئیں نے ستمبر کے دوران 3 ہزار 560 افراد کی جان لے لی، جبکہ شہری اور صنعتی فضائی آلودگی سمیت مجموعی طور پر آلودہ ہوا کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد 5 ہزار 310 تک پہنچ گئی۔

عالمی میڈیا کے مطابق یہ اعداد و شمار توانائی اور صاف ہوا کے شعبے میں تحقیق کرنے والے ادارے ’سینٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر‘ کی تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں فضائی آلودگی کے باعث ہونے والی اموات میں اگست کے مقابلے میں 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جب یہ تعداد 3 ہزار 740 تھی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگلاتی اور زمینی آگ سے اٹھنے والے زہریلے دھوئیں کے علاوہ شہری اور صنعتی فضائی آلودگی بھی بڑی تعداد میں اموات کا سبب بنی، جس کے نتیجے میں ستمبر کے دوران مزید ایک ہزار 750 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

کلیمانتن اور سماٹرا سب سے زیادہ متاثر

آگ سے متاثرہ جزیرے بورنیو کے علاقے کلیمانتن میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں 94 سے 99 فیصد حصہ جنگلاتی آگ کے زہریلے دھوئیں کا تھا، جبکہ سماٹرا میں یہ شرح 80 فیصد سے زیادہ رہی۔اس کے برعکس انڈونیشیا کے جنوبی جزیرے جاوا میں فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات کی بڑی وجہ شہری اور صنعتی آلودگی رہی۔رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران انڈونیشیا میں تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ افراد کو غیر صحت بخش سے لے کر انتہائی خطرناک فضائی آلودگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کلیمانتن میں شدید آلودگی کے دنوں کے دوران خطرناک حد تک آلودہ ہوا میں سانس لینے والے افراد کی تعداد 28 لاکھ سے بڑھ کر 64 لاکھ ہو گئی۔

جنگلاتی آگ کا دھواں دیگر ممالک تک پھیل گیا

رپورٹ میں جنگلاتی آگ کی بڑی وجوہات میں ایل نینو کے موسمی اثرات اور شدید خشک سالی کو قرار دیا گیا ہے، جن کے باعث انڈونیشیا کے مختلف علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس آتشزدگی سے جنگلات کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کے ساتھ زہریلا دھواں بھی فضا میں پھیل گیا۔جنگلاتی آگ کا دھواں انڈونیشیا تک محدود نہیں رہا بلکہ جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہوئے۔ ملائیشیا، سنگاپور، فلپائن اور مشرقی تیمور میں بھی اس دھوئیں کے اثرات سامنے آئے۔