28 ویں ترمیم کا مسودہ تیار، چھوٹے صوبوں کا قیام سرفہرست ، عمران اسماعیل

بلاول بھٹو سے سوال ہے کیا 27 ویں ترمیم پر آپ سے مشاورت ہوئی تھی؟ سابق گورنر  
 کراچی(آئی این پی ) سابق گورنر سندھ اور سینئیر سیاستدان عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ 28 ویں ترمیم کا وقت قریب ہے، ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جس میں چھوٹے صوبوں کے قیام کا معاملہ سر فہرست ہے۔ایک انٹرویو میں عمران اسماعیل نے کہا کہ انتظامی یونٹس کس شکل میں ہوں گے، کیسے چلیں گے، پیپلز پارٹی انتظامی یونٹس پر کیسے مانے گی، یہ ایک دلچسپ مرحلہ ہوگا۔ انھوں نے کہا ترمیم میں پی ایف سی ایوارڈ کا معاملہ بھی شامل ہے، پیسوں پر جو شخصی اجارہ داری ہے اس کو ختم کرنا ہے۔انھوں نے کہا بلاول بھٹو سے میرا سوال ہے کہ کیا 27 ویں ترمیم پر آپ سے مشاورت ہوئی تھی؟ سیدھا پیپر آیا، سائن کرو اور گھر جا والا معاملہ ہوا تھا، یہی لوگ تھے جنھوں نے شور مچایا کہ ہم نے ترمیم پڑھی نہیں، لیکن جب ترمیم آئی 10 منٹ میں بغیر بحث کے پاس بھی ہو گئی، 28 ویں ترمیم بھی بہ آسانی منظور ہو جائے گی۔عمران اسماعیل نے کہا چھوٹے صوبوں کا قیام پی ٹی آئی کی بھی ڈیمانڈ ہے اور ان کے منشور میں شامل ہے، اب تحریک انصاف اس پر کہاں کھڑی ہوگی یہ دیکھنا ہے، تحریک انصاف غلطیوں پر غلطیاں کرتی جا رہی ہے، اپنی دو تہائی اکثریت والی حکومت گنوا دی۔انھوں نے کہا دہشت گردی کے خلاف کے پی حکومت نے کوئی ایکشن نہیں لیا، نہ کھبی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلایا، تحریک انصاف نے سیاسی و قومی معاملے کو الجھا کر رکھ دیا ہے، اس میں فیصلہ سازی کا شدید فقدان ہے۔عمران اسماعیل کا کہنا تھا کہ وہ سلمان اکرم راجہ کو سیاسی شخص نہیں مانتے، جس نے کبھی کونسلر کا الیکشن نہیں لڑا وہ سیکریٹری جنرل بنا ہوا ہے، پارٹی کی کوئی سیاسی حکمت عملی یا پالیسی نہیں ہے، شاہ محمود قریشی، عمر چیمہ، اعجاز الحق، یاسمین راشد جیسے لوگوں سے کوئی مشاورت نہیں کی جاتی۔انھوں نے کہا تحریک انصاف کی حالیہ قیادت نا اہل ہے، میچور نہیں ہے، قیادت جو مزے اڑا رہی ہے انھیں پتہ ہے کہ یہ موقع پھر نہیں ملے گا، لانگ مارچ کی ناکامی کے ذمہ دار محمود اچکزئی، راجا ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ اور تمام فیصلہ ساز ہیں، اعلی قیادت میں سے کوئی بھی لانگ مارچ میں نہیں گیا، سب گھر بیٹھ کر بیانات دیتے رہے، تحریک انصاف کا سوشل میڈیا اور قیادت کا وطیرہ ہے یہ لوگوں کو بھڑکاتے ہیں باہر نکلو ، جلا ئوگھیرا ئوکرو لیکن خود باہر نہیں نکلتے۔انھوں نے مزید کہا کے پی میں گورنر راج لگنے کی ذمہ دار تحریک انصاف اور کے پی حکومت خود ہے، اس گورنر راج سے آرٹیکل 58 ٹو بی زندہ ہو گیا ہے، یہ گورنر راج صرف کے پی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سب کی باری آئے گی۔انھوں نے کہا تحریک انصاف قیادت کو سوچنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا ملاقات کے لیے حکومت سے مذاکرات کرے یا محمود اچکزئی کی عزت دیکھ لے، کیا اچکزئی کی ناک اتنی بڑی ہے کہ وہ وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے وزیر اعظم ہاس نہیں جائیں گے، کیا اپوزیشن لیڈر اس سے پہلے نواز شریف اور شہباز شریف سے ملنے نہیں گئے، تحریک انصاف کی حکومت گرانے میں یہی اچکزئی لیڈر تھے، جو آج پی ٹی آئی کے لیڈر بنے پھر رہے ہیں۔عمران اسماعیل نے کہا یہ کوئی بات نہیں کہ اپوزیشن لیڈر وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے وزیر