رفیع صحرائی
پانی زندگی ہے۔ انسان، جانور، چرند پرند، فصلیں، درخت اور پوری کائنات کا نظامِ حیات پانی کے بغیر ادھورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کو اپنی عظیم نعمتوں میں شمار کیا ہے، مگر افسوس کہ ہم اپنی نااہلی، غفلت اور بدانتظامی کے باعث اس نعمت کو آلودہ بھی کر رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے اس کے وجود کو خطرے میں بھی ڈال رہے ہیں۔ آج پنجاب کے کئی شہروں اور دیہی علاقوں میں صاف پانی کا حصول ایک بنیادی ضرورت سے بڑھ کر ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔
پنجاب کے مختلف شہروں میں گزشتہ برسوں کے دوران زیرِ زمین اور سطحی پانی کی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ گندے نالوں کا پانی، ناقص سیوریج نظام، صنعتی فضلہ اور فیکٹریوں و کارخانوں سے خارج ہونے والا زہریلا پانی ہمارے آبی ذخائر کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بہت سے صنعتی اداروں کو اس بات کا پابند نہیں بنایا گیا کہ وہ اپنے گندے پانی کو مناسب طریقے سے صاف کرنے کے بعد ہی اسے خارج کریں۔ نتیجتاً آلودہ پانی زمین میں جذب ہو کر زیرِ زمین پانی کا حصہ بنتا اور بالآخر انسانی صحت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
آلودہ پانی متعدد بیماریوں کا سبب بنتا ہے اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض کے پھیلاؤ میں بھی اس کا کردار اہم ہے۔ جب ایک خاندان کو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہ ہو تو اس کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں رہتے۔ علاج معالجے کے اخراجات بڑھتے ہیں، غریب خاندان مزید غربت کا شکار ہوتے ہیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور معاشرے کی مجموعی پیداواری صلاحیت کم ہوتی ہے۔ یوں صاف پانی کی عدم دستیابی دراصل صحت، معیشت اور انسانی ترقی تینوں کے لیے خطرہ ہے۔
ایسے حالات میں حکومت پنجاب کی جانب سے صوبے بھر میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور صاف پانی کی فراہمی کے لیے وسیع منصوبہ بندی ایک خوش آئند اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صاف پانی اتھارٹی کے خصوصی اجلاس میں جون 2027 تک 5734 واٹر فلٹریشن پلانٹس مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ انسانی صحت اور بنیادی شہری حقوق سے جڑا ہوا فیصلہ ہے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ ’’صاف پانی عوام کا حق ہے اور ہر فرد کو صاف پانی ضرور ملے گا‘‘ دراصل ایک ایسی ترجیح کی نشاندہی کرتا ہے جسے ریاستی پالیسی کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔ خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ حکومت نے صرف فلٹریشن پلانٹس لگانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کی مرمت و بحالی کے لیے ہر تحصیل میں موبائل مینٹیننس یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ موبائل ورکشاپ میں پلمبر اور دیگر تکنیکی عملے کی موجودگی سے خراب پلانٹس کی بروقت مرمت ممکن ہو سکے گی۔
یہاں ایک اہم سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ان پلانٹس کی نگرانی کا بہترین نظام کیا ہونا چاہیے؟ حکومت نے متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز کو مانیٹرنگ کی ذمہ داری سونپی ہے اور ان کی سربراہی میں عوامی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ یہ انتظام اپنی جگہ قابلِ قدر ہے، تاہم طویل مدت میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی نگرانی، صفائی، معمول کی دیکھ بھال اور مینٹیننس کی ذمہ داری مقامی بلدیاتی اداروں کو سونپنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ بلدیاتی ادارے گلی، محلے اور یونین کونسل کی سطح پر عوام کے قریب ہوتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کون سا پلانٹ کب خراب ہوا، کہاں پانی کی طلب زیادہ ہے اور کس علاقے میں فوری توجہ درکار ہے۔ اگر مقامی حکومتیں فعال اور بااختیار ہوں تو وہ ان پلانٹس کو محض سرکاری تنصیبات نہیں بلکہ اپنے علاقے کی مستقل عوامی خدمت کا مرکز بنا سکتی ہیں۔ اس سے نہ صرف نگرانی بہتر ہوگی بلکہ مقامی سطح پر جواب دہی بھی پیدا ہوگی۔
صاف پانی کے منصوبے میں ایک اور بنیادی پہلو پانی کے معیار کی مسلسل جانچ ہے۔ صرف فلٹریشن پلانٹ نصب کر دینا کافی نہیں۔ ضروری ہے کہ پانی کے نمونے باقاعدگی سے حاصل کیے جائیں، آزاد اور مستند لیبارٹریوں سے ان کا تجزیہ کرایا جائے اور نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ فلٹر تبدیل کرنے، مشینری کی صفائی اور پلانٹ کے معیار کی نگرانی کے لیے واضح ایس او پیز بنائے جائیں۔ اگر کسی پلانٹ کا پانی مقررہ معیار پر پورا نہ اترے تو اسے فوری طور پر درست کیا جائے۔
اسی طرح صنعتی آلودگی کے مسئلے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایک طرف حکومت اربوں روپے خرچ کرکے عوام کے لیے صاف پانی فراہم کرے اور دوسری طرف فیکٹریوں اور کارخانوں کا آلودہ پانی دریاؤں، نالوں یا زمین میں شامل ہوتا رہے تو مسئلہ کبھی مستقل حل نہیں ہوگا۔ صنعتی اداروں کے لیے Effluent Treatment Plants کی تنصیب اور ان کے فعال ہونے کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔ جو ادارے آبی آلودگی کا سبب بنیں، ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔
یہ بات بھی قابلِ تحسین ہے کہ حکومت پنجاب نے صرف فلٹریشن پلانٹس تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ لاسٹ مائل واٹر سپلائی پراجیکٹ کی منظوری بھی دی ہے۔ چکوال، راجن پور اور راولپنڈی کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی کے منصوبے اس امر کا اعتراف ہیں کہ بعض علاقوں کا مسئلہ صرف صاف پانی کی فلٹریشن نہیں بلکہ پانی کی دستیابی بھی ہے۔ چکوال میں 256 کلومیٹر اور راجن پور میں 1780 کلومیٹر تک واٹر سپلائی منصوبوں کو ترجیح دینا ایسے علاقوں کے لوگوں کے لیے بڑی سہولت بن سکتا ہے جہاں آج بھی پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔
اسی طرح خوشاب، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان اور بہاولپور میں واٹر بوٹلنگ منصوبے کے تحت روزانہ ہزاروں لیٹر بوتلوں کی فراہمی اور لاکھوں افراد تک صاف پانی پہنچانا بھی ایک قابلِ ذکر کوشش ہے۔ تاہم ایسے منصوبوں میں شفافیت، معیار، مسلسل نگرانی اور طویل مدتی مالی پائیداری کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
پانی کے مسئلے کا ایک پہلو عوامی شعور بھی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ گھروں میں پانی کا ضیاع روکنا، پلاسٹک اور کچرے کو نالوں میں پھینکنے سے اجتناب کرنا، سیوریج کے نظام کو نقصان نہ پہنچانا اور اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنا ہم سب کی شہری ذمہ داری ہے۔ جس قوم کو صاف پانی چاہیے، اسے پانی کے ذرائع کو آلودہ ہونے سے بچانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
حکومت پنجاب کا یہ اقدام اس لحاظ سے بھی قابلِ ستائش ہے کہ اس میں صحت، آبادی اور بنیادی سہولت کو ایک ساتھ دیکھا گیا ہے۔ اگر صاف پانی ہر گھر تک پہنچتا ہے تو ہسپتالوں پر بیماریوں کا بوجھ کم ہوگا، علاج کے اخراجات گھٹیں گے، بچوں کی صحت بہتر ہوگی اور غریب خاندانوں کو ایک بڑی مالی مشکل سے نجات ملے گی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس منصوبے کو ایک وقتی سیاسی یا انتظامی پروگرام کے بجائے پنجاب کی مستقل واٹر پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ جہاں فلٹریشن پلانٹس موجود نہیں وہاں نئے پلانٹس لگائے جائیں، جہاں پانی کی قلت ہے وہاں پائپ لائنیں بچھائی جائیں، جہاں صنعتی آلودگی ہے وہاں سخت نگرانی کی جائے اور جہاں زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک متاثر ہو چکا ہے وہاں متبادل ذرائع فراہم کیے جائیں۔