سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اسی طرح کوانٹمی خلاکوفلسفیانہ عدم سمجھ لینالفظوں کی لغزش ہے۔جہاں میدان،حالت،امکانات اورقوانین زیرِبحث ہوں،وہاں عدمِ محض نہیں ہوتا۔کوئی طبیعی نمونہ اگرکائنات کی پیدائش سمجھادے تومسلمان اس کامیابی کوقبول کرسکتاہے،پھرپوچھ سکتاہے کہ اس نمونے کی واقعی بنیاداورقانون پذیرحقیقت کیوں موجودہے۔ریاضیاتی مساوات سے خالق تک پہنچنابھی ایک فلسفیانہ استدلال ہوگا،مساوات کاتجرباتی نتیجہ نہیں۔دفترمیں لکھی ہوئی تعمیرکی ترکیب اورواقعی عمارت الگ چیزیں ہیں؛لیکن اس تمثیل سے تمام کوانٹمی نظریات یک قلم باطل نہیں ہوجاتے۔
مائرکی دوسری دلیل طبیعی مقداروں کی حیات موافق مناسبت ہے۔بعض بنیادی مقداریں اورابتدائی حالات بدلیں توستاروں،عناصریاپیچیدہ کیمیائی ساختوں کے امکانات بہت مختلف ہوسکتے ہیں۔لیوک بارنزنے اس موضوع کاتفصیلی علمی جائزہ پیش کیاہے۔تاہم یہ کہناکہ ہرمقدار کی معمولی تبدیلی ہرقسم کی ممکنہ زندگی ختم کردے گی،غیرمحتاط تعمیم ہے۔معلوم زندگی،ممکن زندگی،مشترکہ طورپربدلنے والی مقداریں اورنامعلوم بنیادی نظریہ الگ سوال ہیں۔امکانات کی تقسیم جانے بغیرقطعی احتمال نکالنابھی آسان نہیں۔
اسلامی استدلال اس نظم کوحکمت کے حق میں قرینہ سمجھتاہے۔کائنات کاسمجھ میں آنا،اس میں مستقل تعلقات کاہونااورحیات کیلئے امکانات کاکھلنا،ایک عاقل اصل کے تصورسے مناسبت رکھتاہے۔مگریہ ریاضیاتی جبرنہیں جس کے بعداختلاف ناممکن ہوجائے۔کثیرکائنات،زیادہ بنیادی طبیعی ضرورت اورانتخابی اثرات جیسے متبادل زیرِبحث آتے ہیں۔ کثیر کائنات کوصرف خداسے فرارکہنامخالف کی نیت کافیصلہ ہے؛درست سوال اس کی شہادت،آزمائش پذیری اورتوضیحی قوت کاہے۔متعدد کائناتیں ہوں تب بھی ان کے مجموعی نظام کی بنیادپوچھی جاسکتی ہے۔
ڈی این اے کی ساخت اوروراثتی عمل حیرت انگیزہیں،مگرحیرت کوجلدبازی سے برہان بنانامناسب نہیں۔حیاتیاتی معلومات کی کمپیوٹر پروگرام سے مشابہت مفیدہوسکتی ہے،لیکن دونوں کی مکمل یکسانی ثابت نہیں۔جاندارنظام کی تبدیلی میں وراثت،تغیراورانتخاب کردارادا کرتے ہیں۔پہلے قابلِ تکثیرنظام کی پیدائش اورموجودجانداروں کاارتقادومختلف تحقیقی
مسائل ہیں۔پہلی بحث کے نامکمل ہونے سے دوسری کے شواہدختم نہیں ہوتے؛نہ ارتقاکی توضیح اپنے آپ خداکے انکارکامنطقی حکم بن جاتی ہے۔
2022کے ایک تجرباتی مقالے میں پہلے سے قائم آراین اے تکثیری نظام،فراہم کردہ حیاتیاتی اجزااورتجرباتی حالات کے اندرزیادہ پیچیدہ باہمی نظام کے ابھرنے کی اطلاع دی گئی۔یہ عدمِ حیات سے مکمل اولین خلیہ پیداکرنے کامظاہرہ نہیں تھا،مگریہ بھی درست نہیں کہ طبیعی عمل سے فعالی پیچیدگی میں اضافے کیلئے کوئی تجرباتی شہادت موجودنہیں۔مسلمان کی دلیل تحقیق روکنے سے مضبوط نہیں ہوگی۔کل اگر حیات کے آغازکی زیادہ جامع طبیعی توضیح مل جائے،توخلقِ الہی کاسوال اس توضیح کے اسباب،قوانین اوروجودی بنیادکے بارے میں قائم رہے گا۔
خلائی مخلوق کے ذریعے زندگی کی منتقلی کامفروضہ بھی آخری سوال کودوسری جگہ منتقل کرتاہے۔لیکن ڈاکنزکی کسی امکانی گفتگوکو خداپرایمان کااقرارکہنادرست نہیں۔ممکنہ حیاتیاتی تخلیق کاراورواجب الوجودمیں بنیادی فرق ہے:پہلاخودپیداشدہ اورمحتاج ہوسکتاہے،دوسرا تمام محتاج وجودکی اصل کے طورپرزیرِ بحث ہے۔اسی طرح تاریک مادے کے استنباط اورخدا کے فلسفیانہ اثبات میں کچھ عمومی مشابہت ہوسکتی ہے کہ آثارسے علت کی طرف جاتے ہیں؛مگردونوں کے طریق آزمائش اوردعوے کی نوعیت یکساں نہیں۔
انسان صرف خارجی دنیاکاناظرنہیں؛وہ اپنے وجودکاتجربہ بھی رکھتاہے۔دماغی عمل اورشعوری حالتوں کے تعلقات معلوم ہونے سے یہ فلسفیانہ سوال لازماختم نہیں ہوتاکہ ذاتی تجربے اورمعنویت کی مکمل توضیح کیاہے۔تاہم یہاں نامعلوم کوفوراخداکاثبوت بنادیناپھروہی کمزور راستہ ہوگا۔اسلامی تصورانسان کوصاحبِ ذمہ داری اوراخلاقی خطاب کامخاطب سمجھتاہے۔یہ تصورشعور،ارادے اورانسانی حرمت کو ایک مربوط معنوی افق دیتاہے؛اس کی قوت مجموعی توضیح میں ہے،کسی ایک نامکمل عصبی تحقیق میں نہیں۔
اخلاق کے باب میں بھی انصاف لازم ہے۔ملحدانسان ایثار،دیانت اورہمدردی کااعلی نمونہ ہوسکتاہے۔بحث اس کے کردارکی نہیں،اخلاقی الزام کی آخری بنیادکی ہے:ظلم اس وقت بھی براکیوں ہے جب ظالم کامیاب اورمعاشرہ خاموش ہو؟اسلامی جواب انسانی پسندسے بلندعدل، خداکے حضورجوابدہی اورآخرت ہے۔غیرمذہبی اخلاقی فلسفوں کے بھی سنجیدہ جوابات ہیں؛انہیں سنے بغیراپنی فتح کااعلان علمی وقارکے خلاف ہے۔دلیل کامقصدمخالف کوبے ضمیرثابت کرنانہیں،اخلاقی حقیقت کی بنیادجانچناہے۔
اس کے مقابل مسئلہ شرنہایت سنگین ہے۔بچے کی تکلیف،جنگ کی تباہی اوربے گناہ کادکھ محض مناظرے کی مثالیں نہیں۔اسلام دنیاکو امتحان،انسان کومحدودعلم رکھنے والااورآخرت کوکامل عدل کی منزل قراردیتاہے؛لیکن کسی خاص سانحے کاپوشیدہ مقصدجان لینے کا دعوی نہیں کرتا۔شرکے وجودسے خداکے انکارکاقطعی نتیجہ نکالنے کیلئے مزید مقدمات درکارہیں، تاہم اس سے مومن کی ذمہ داری کم نہیں ہوتی۔مصیبت زدہ کے سامنے پہلافرض مرہم ہے۔عدل کاعقیدہ ظلم کے خلاف عمل میں ظاہرنہ ہوتوزبان کااستدلال بے اثررہتاہے۔
خالق کے حق میں عمومی دلیل اوراسلام کی حقانیت کامقدمہ ایک مرحلہ نہیں۔اول ہمیں ایک غیرمحتاج اصل،حکمت اورمعنویت کی طرف لے جاسکتاہے؛دوم کیلئے نبوت، قرآن، سیرت اوروحی کے دعوے کامستقل جائزہ چاہیے۔قرآن کوپہلے سے غیرمعتبرسمجھنے والے مخاطب کے سامنے صرف آیت پڑھ دینامشترک عقلی دلیل کابدل نہیں۔ آیت اسلامی تصور واضح کرتی ہے،پھراس تصورکے عقلی مقدمات اوروحی کی صداقت الگ پیش ہوتے ہیں۔اسی ترتیب سے خطاب دعوے کی تکرارکی بجائے معرفت کاسفربنتاہے۔
الحادکی پسپائی کاقیمتی نکتہ یہی ہے کہ انسان کولاجواب کرنااوراس کادل مطمئن کرنامختلف کام ہیں۔البتہ ہرمنکرکوخواہش پرست یامغربی اثرکااسیرکہنادعوت کے دروازے بندکرسکتا ہے۔کوئی مذہبی ظلم سے زخمی ہے،کوئی سائنسی اعتراض سے الجھا،کوئی محض مطالعے میں ہے۔قرآن میں ابراہیم علیہ السلام کاقلبی اطمینان طلب کرناسوال کی گنجائش روشن کرتاہے (البقرہ 2:260)۔صحیح مسلم کی روایت میں ناگواروسوسوں پرپریشان اہلِ ایمان کوتسلی ملتی ہے؛اسے خودانکارِخدا کی توثیق نہیں سمجھناچاہیے۔
پس علمی گفتگوکاراستہ حکمت،حسنِ نصیحت اوربہترین اندازِمجادلہ ہے(النحل16:125))۔الحادکی واپسی کاسفرکسی معروف شخص کے مذہب بدلنے،تہذیبی وابستگی ظاہرکرنے یاکسی
نئی دریافت پرفاتحانہ نعرہ لگانے سے ثابت نہیں ہوتا۔وہ اس وقت ممکن ہوتاہے جب انکار کی قطعی زبان اپنی بنیادوں پرنظرثانی کرے،اورایمان کی زبان دیانت کے ساتھ دلیل پیش کرے۔خدائے لازوال پریقین کی مضبوط صورت وہ ہے جوکائنات کی محتاجی کوپہچانے،نظم میں حکمت کے قرائن دیکھے،اورمعرفت کوعدل ورحمت میں ڈھال دے۔تب علم کی روشنی بندگی کے چراغ کوبجھاتی نہیں؛اس کے سامنے افق وسیع کرتی ہے۔
اس گفتگوکے بعداصل سوال ہمارے اپنے طرزِفکراورطرزِعمل کی طرف پلٹتاہے۔اگرانسان اپنے آپ کوایک حکیم وعادل خالق کے حضور جواب دہ سمجھتاہے،تواس اعتقادکااثراس کی معاشرت میں بھی دکھائی دیناچاہیے۔اس کے ہاتھ سے کسی کمزورکاحق محفوظ ہو،اس کی زبان سے اختلاف کرنے والے کی عزت سلامت رہے،اوراس کی قوت کسی بے بس کیلئے پناہ بنے۔معرفت جب کردارمیں اترتی ہے،تب یقین کووہ وقارملتاہے جومحض خطابت سے حاصل نہیں ہوتا۔
ہمارے عہدکوایسے مذہبی مکالمے کی ضرورت ہے جس میں سوال کرنے والااپنی تحقیرکااندیشہ محسوس نہ کرے۔بہت سے ذہن کسی دلیل سے پہلے ایک محفوظ سماعت کے محتاج ہوتے ہیں؛انہیں ایساماحول چاہیے جہاں وہ اپنی الجھن پوری بیان کرسکیں۔اہلِ ایمان کی علمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ماحول کی تعمیرکریں،اپنی کمزوریوں کی اصلاح کریں اورجوبات معلوم نہ ہو،اسے معلوم ظاہرکرنے سے گریزکریں۔ اعترافِ لاعلمی،سچائی سے وفاداری کی ایک صورت ہے۔
اسی طرح انکارکی جانب کھڑے ہوئے انسان کیلئے بھی نظرثانی کادروازہ کھلارہناچاہیے۔کسی رائے سے طویل وابستگی اسے حقیقت کا آخری نام نہیں بنادیتی۔ذہن کی آزادی میں
یہ حوصلہ بھی شامل ہے کہ آدمی اپنے پسندیدہ جواب کودوبارہ پرکھ سکے،اورجہاں روشنی زیادہ ہو،وہاں قدم بڑھانے میں اپنی سابق شناخت کورکاوٹ نہ بنائے۔
الحادسے ایمان کی طرف سفر،اگرآغازپاتاہے،تواس کی منزل کسی مخالف کی شکست نہیں،انسان کی داخلی کشادگی ہے۔وہاں علم کے ساتھ تواضع اوریقین کے ساتھ رحمت پیداہوتی ہے۔یہی اس بحث کاتہذیبی ثمرہوسکتاہے:ایک ایساانسان جوحقیقت کاطالب بھی ہواورمخلوق کا خیرخواہ بھی؛جس کی بندگی اس کے باطن کوروشن کرے اوراس روشنی سے دوسروں کاراستہ بھی آسان ہو۔