سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
ہرعہداپنے سوالوں کے ساتھ دنیامیں آتاہے،مگربعض سوال زمانوں کی گردسے دھندلے نہیں ہوتے۔انسان کون ہے،اس کی زندگی کس معنی کی حامل ہے،اوراس کے گردپھیلی ہوئی ہستی کاآخری سہاراکیاہے؟تہذیبوں کے لباس بدل جاتے ہیں،ان سوالوں کی آنچ باقی رہتی ہے۔کبھی یہ کسی حکیم کی خلوت میں جاگتے ہیں،کبھی کسی شاعرکے اضطراب میں ، اورکبھی ایک ایسے انسان کی خاموشی میں جس کے پاس آسائش کی ہرچیزہے،مگراطمینان کاکوئی ٹھکانانہیں۔
ہمارے زمانے نے انسان کوغیرمعمولی قدرت بخشی ہے۔اس کے ہاتھ میں فاصلے سمٹ آئے ہیں،اس کی نگاہ کے سامنے پوشیدہ جہان کھل گئے ہیں؛تاہم قدرت میں اضافہ ہمیشہ بصیرت میں اضافے کاہم معنی نہیں ہوتا۔بہت کچھ کرسکنے والاانسان اب بھی پوچھتاہے کہ اسے کیا کرناچاہیے،اورکیوں۔یہی وہ مقام ہے جہاں علم کی کامیابیاں،انسانی وجودکی معنوی طلب سے ہم کلام ہوتی ہیں۔
وجودِخداکی بحث اسی طلب کاایک سنجیدہ اظہارہے۔اسے محض مذہبی اورغیرمذہبی گروہوں کی کشمکش بنادینااس کے مرتبے کوگھٹادیتا ہے۔یہاں کسی جماعت کی فتح سے بڑھ کرانسانی فہم کی دیانت مطلوب ہے۔یقین اگرسوال سننے سے گھبرائے تواپنااعتمادمجروح کرتاہے، اورانکاراگرہرمتبادل تعبیرکوپیشگی مستردکردے توتحقیق کی وسعت محدودکردیتاہے۔
اسٹیفن مائرکی حالیہ تحریراس مکالمے کوایک نئی مناسبت فراہم کرتی ہے۔اسلامی فکر کیلئییہ موقع اپنے علمی ورثے کوتازہ نظرسے دیکھنے اورعصرِحاضرسے گفتگوکرنے کاہے۔اس گفتگو کی آبرواسی میں ہے کہ دلیل روشن،زبان شائستہ اورانسان محترم رہے۔کیونکہ حقیقت کی جستجومیں بلندترین آوازسے زیادہ قدر،اس نگاہ کی ہے جوانصاف کے ساتھ دیکھ سکے۔
انسان نے آسمان کی وسعتوں میں دوربینیں نصب کردیں،ذرے کے باطن میں جھانکنے کیلئے عظیم تجربہ گاہیں تعمیرکرلیں،اورحیات کے دفترمیں پوشیدہ وراثتی حروف بھی پڑھ لیے؛ مگرایک سوال آج بھی اپنے پورے وقارکے ساتھ اس کے سامنے کھڑاہے:یہ سب کچھ موجود کیوں ہے؟قوانینِ فطرت کی دریافت نے کائنات کانقشہ روشن کیاہے،لیکن نقشے کی روشنی،وجودکے سرچشمے سے بے نیازی کااعلان نہیں۔اسلامی نقط نظرسے خدائے لازوال کااثبات کسی سائنسی خلامیں پناہ لینے کانام نہیں؛یہ خودوجود،اس کی محتاجی،اس کے نظم اور انسانی شعورکی معنویت پرغورکرنے کانتیجہ ہے۔
22ستمبر2026 کیـ ’’دی ٹیلیگراف‘‘میں شائع ہونے والااسٹیفن مائرکا مضمون اسی سوال کو تازہ کرتاہے۔وہ کائنات کے آغاز،طبیعی مناسبتوں اورحیاتیاتی معلومات سے خالق کی طرف استدلال کرتے ہیں۔ان کی تحریرایمان کے حق میں گفتگوکاموقع فراہم کرتی ہے،لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذکرناکہ سائنس نے خداکوتجربہ گاہ میں ثابت کردیا،استدلال کی منزلوں کوخلط ملط کرناہوگا۔سائنس مشاہدہ دیتی ہے؛ فلسفہ اس کے مضمرات جانچتاہے؛وحی خالق کی معرفت،بندگی اوراخلاقی جواب دہی کاراستہ دکھاتی ہے۔ان تینوں کی باہمی گفتگوثمرآور ہے،بشرطیکہ کسی ایک کی آوازکودوسرے کے نام سے نہ پکاراجائے۔
خداکے وجودکاسوال جدیدمغرب کی ایجادنہیں۔قرآن نے ساتویں صدی میں ان لوگوں کاقول نقل کیاجوزندگی کودنیاتک محدوداورموت کو گردشِ زمانہ کانتیجہ سمجھتے تھے،پھراس دعوے کی علمی بنیادپرسوال اٹھایا:ان کے پاس اس کاعلم نہیں،محض گمان ہے(الجاثیہ45:24)۔ اس لیے الحادکوصرف درآمد شدہ بیماری قراردیناتاریخ کے دائرے کوتنگ کرنا ہے ۔ انسانی ذہن نے مختلف تہذیبوں میں وجود،علت اورانجام کے سوال اٹھائے؛اسلام نے ان سوالوں کودلیل،تذکیراوراخلاقی دعوت کے ساتھ مخاطب کیا۔
مسلم روایت بھی یک آوازاوربے اختلاف نہیں رہی۔ابن سینانے الشفاکی الہیات میں ممکن الوجوداورواجب الوجودکی تمیزسے استدلال کیا؛ غزالی نے تہافت الفلاسفہ میں فلسفیانہ دعوؤں کی تنقیدکی؛ابن رشد نے تہافت التہافت میں جواب دیا۔ان کے اختلافات حقیقی تھے،مگراس تاریخ کاحاصل یہ نہیں کہ عقل ایمان کی دشمن ہے۔اس سے ظاہرہوتا ہے کہ مسلم تہذیب نے بنیادی سوالات پرباقاعدہ بحث کی۔فلسفے کو سراسرتخمین کہناخود اس عقلی میراث سے دستبرداری ہے جس نے دعوے اوردلیل میں فرق سکھایا۔
قرآن کی دعوت میں نظراورفکرکی جگہ نمایاں ہے۔آسمان وزمین کی تخلیق اوررات دن کی گردش اہلِ عقل کیلئے نشانیاں ہیں(آل عمران 3:190)۔ نشانیاں اپنے آپ کوآخری حقیقت نہیں کہتیں؛وہ نگاہ کوآگے بڑھاتی ہیں۔اسلامی تہذیب میں کائنات کوقابلِ فہم سمجھنے کی ایک بنیادیہی تصورہے کہ وہ بے معنی انتشارنہیں،ایک حکیم خالق کی تخلیق ہے۔البتہ علمی دیانت ہمیں یہ کہنے سے روکتی ہے کہ ہرمسلمان مفکرنے ایک ہی فلسفہ اختیارکیا،یاہرسائنسی کامیابی محض مذہبی اعتقادکالازمی ثمرتھی۔تاریخ کی عظمت اس کے تنوع سمیت قبول کی جاتی ہے۔
اثباتِ خداکی مضبوط عقلی بنیادیہ سوال ہے کہ محتاج اشیاکے وجودکی آخری توضیح کیاہے۔ہم جن اشیاکوجانتے ہیں وہ مخصوص حالات، اجزااورتعلقات پرقائم ہیں۔ان کاہوناان کی تعریف سے لازم نہیں آتا؛وہ نہ بھی ہوتیں تومنطقی تضادپیدانہ ہوتا۔ایسے وجودکوفلسفیانہ زبان میں ممکن کہاجاتاہے۔استدلال یہ ہے کہ اگروجودکی ہربنیادخودکسی دوسری بنیادکی محتاج ہو،تومحض محتاجیوں کی فہرست طویل کرنے سے غیرمحتاج بنیادمیسرنہیں آتی۔قرض کی رسیدوں کاانباراپنے آپ سرمایہ نہیں بن جاتا۔
یہ دلیل صرف زمانی آغازکی دلیل نہیں۔فرض کیجیے کائنات کی تاریخ انسانی حساب سے بے آغازثابت ہوجائے،تب بھی اس کے وجوداور قوانین کی بنیادکاسوال باقی رہتاہے۔ ازلی مدت اوروجودی خودکفالت ایک چیزنہیں۔ایک ہمیشہ روشن رہنے والاچراغ بھی،اگراس کی روشنی کسی مستقل منبع پرمنحصرہو،اس انحصارسے آزادنہیں ہوتا۔مثال دلیل کابدل نہیں،مگرفرق واضح کرتی ہے:سوال صرف یہ نہیں کہ کائنات کب شروع ہوئی؛سوال یہ بھی ہے کہ وہ اپنے وجودمیں قائم بالذات کیوں سمجھی جائے۔
یہاں ملحداعتراض کرسکتاہے کہ کائنات ایک بنیادی حقیقت ہے جس کی مزیدتوضیح ضروری نہیں۔یہی اصل محلِ نزاع ہے۔مسلمان مفکر کواپنی دلیل کامقدمہ صاف بیان کرناچاہیے: محتاج حقیقت کافی توضیح چاہتی ہے،اوراس توضیح کی آخری بنیادخودمحتاج نہیں ہوسکتی۔ مخالف اس اصول کوردکرسکتاہے،مگرپھرگفتگودلیل کے اصل مقام پرہوگی۔واجب الوجودکا استدلال اسی اصول کواختیارکرکے ایک غیر محتاج اصل تک پہنچتاہے؛اس کی مزیدصفات اوروحی کی صداقت کیلئے مزیددلائل درکارہیں۔
عام اعتراض ہے کہ اگرہرچیزکوخالق چاہیے توخداکاخالق کون ہے؟مگرمعتبردلیل کامقدمہ یہ نہیں کہ ہرموجودمخلوق ہے؛مقدمہ یہ ہے کہ جووجودپیداہوایااپنی حقیقت میں محتاج ہے ، وہ توضیح چاہتاہے۔خداسے مراداسی محتاجی سے پاک حقیقت ہے۔اسے بھی مخلوق فرض کرکے پھراس کے خالق کامطالبہ کرنازیرِبحث تصوربدل دیناہے۔تاہم محض کسی شے کوغیر محتاج کہہ دینے سے دلیل مکمل نہیں ہوتی؛دکھاناہوتا ہے کہ محتاج وجودکی آخری بنیادکیوں درکارہے اوروہ خوداسی زنجیرکی ایک کڑی کیوں نہیں ہوسکتی۔
سور اخلاص اس تصورکونہایت جامع صورت میں پیش کرتی ہے:اللہ ایک ہے،بے نیازہے،نہ اس کی اولادہے،نہ وہ کسی کی اولاد،اورکوئی اس کاہمسرنہیں(112:4:1)یہاں خالق کائنات کے اندررہنے والی بڑی مخلوق یاجسمانی انجینئرنہیں۔وہ اس پورے نظام کی اصل ہے۔ قرآن کاسوال کہ کیاانسان بغیرکسی سبب کے پیداہوئے،یاخوداپنے خالق ہیں،اورکیاانہوں نے آسمان وزمین بنائے،انسان کواپنے وجودکی حقیقت پرغورکی دعوت دیتاہے(الطور : )۔ (52:36:35)۔جدید کونیات ایک گرم،کثیف ابتدائی حالت سے کائنات کے پھیلاؤکی مضبوط شہادتیں پیش کرتی ہے۔ناساکے بیان کے مطابق موجودہ کونیاتی تاریخ تقریباتیرہ ارب اسی کروڑبرس پیچھے تک جاتی ہے،مگر ابتدائی تیزپھیلاؤسے پہلے کی صورت اوراس کے محرک کے بارے میں اہم سوالات کھلے ہیں۔لہذابگ بینگ کوعدمِ محض سے تخلیق کی براہِ راست تجرباتی تصویرکہنادرست نہیں۔وہ کائنات کی طبیعی تاریخ کانمونہ ہے؛اس سے پہلے یااس کی بنیادمیں کیاہے،یہ علیحدہ بحث ہے۔
بورڈ،گتھ اورویلنکن کامعروف مقالہ بھی احتیاط چاہتاہے۔مخصوص اوسط توسیعی شرط کے تحت ان کانتیجہ ماضی کی سمت زمانی ونوری راستوں کی نامکملیت ہے؛خودمصنفین کہتے ہیں کہ توسیعی خطے کی ماضی کی حدسمجھانے کیلئے مزید طبیعیات درکارہے۔یہ ہرممکن کائناتی نمونے کے عدم سے ظہورکاجامع ثبوت نہیں۔تاہم اس سے اتناضرورواضح ہوتاہے کہ توسیع کا نمونہ اپنے آپ مکمل آخری توضیح نہیں۔یہاں ایمان کی قوت مبالغے میں نہیں،اس سوال کی بقامیں ہے جوطبیعی بیان کے بعدبھی باقی رہتاہے۔ (جاری ہے)