اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل تہران کسی دفاعی معاہدے کے لیے نہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، قیامِ امن اور صلح کا پیغام لے کر گئے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن خطے میں امن کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں کی گئیں۔ ان کے مطابق ان کوششوں کے نتیجے میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ مشترکہ معاہدے اور قطر کے ساتھ معاہدے سمیت مختلف سفارتی و دفاعی پیش رفت سامنے آئی۔
سفارتی کوششوں کا اعتراف ہونا چاہیے، خواجہ آصف
وزیر دفاع نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی تہران روانگی کا مقصد کسی نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کرنا نہیں تھا بلکہ خطے میں امن اور مفاہمت کو فروغ دینا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر دیکھا جانا چاہیے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے دفاعی معاہدوں میں وہ بطور وزیر دفاع خود بھی شریک رہے ہیں۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کی خواہش بھی ظاہر کی اور کہا کہ اختلافِ رائے کے باوجود امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے سوالات پر جواب دینے کی پیشکش
قومی اسمبلی میں گفتگو کے دوران وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں، تاہم قومی اور علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات پر گفتگو حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کی کوششیں کسی ایک سیاسی جماعت یا شخصیت کا معاملہ نہیں بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے ان اقدامات کا جائزہ سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر لیا جانا چاہیے۔
انتخابات پر اعتراضات کا بھی اعتراف
خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں انتخابات پر اٹھنے والے اعتراضات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ حالیہ انتخابات پر اعتراضات موجود ہیں، بالکل اسی طرح جیسے انہیں 2018 کے انتخابات پر بھی اعتراضات تھے۔ان کے اس بیان میں انتخابی عمل پر سیاسی اختلافات کے تسلسل کی نشاندہی کی گئی۔ تاہم انہوں نے علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششوں اور ملکی سیاست میں انتخابی اعتراضات کو الگ معاملات کے طور پر بیان کیا۔
علاقائی امن کے لیے سفارت کاری کی اہمیت
وزیر دفاع کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے، تنازعات کے حل اور ممالک کے درمیان روابط بہتر بنانے کے لیے سفارتی کوششیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اختلافات کے باوجود امن اور مفاہمت کے لیے ہونے والی کوششوں کی اہمیت تسلیم کی جانی چاہیے۔