پنجاب میں ایل پی جی کی قیمتیں برقرار، لاہور کے صارفین کو ریلیف نہ مل سکا

پنجاب میں ایل پی جی کی قیمتیں برقرار، لاہور کے صارفین کو ریلیف نہ مل سکا

لاہور سمیت پنجاب بھر میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں کمی نہ آسکی، جبکہ صوبے میں کہیں بھی ایل پی جی سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں۔

 سرکاری قیمت اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والے نرخوں کے درمیان بڑے فرق نے صارفین کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے مطابق اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی قیمت 280 روپے فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے، تاہم مارکیٹ میں گیس 550 سے 575 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہورہی ہے۔ اس طرح صارفین کو سرکاری نرخ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔

دو ہفتوں میں ڈھائی ارب روپے سے زائد منافع کمانے کا دعویٰ
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز نے الزام عائد کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث ایل پی جی مافیا نے صرف دو ہفتوں کے دوران ڈھائی ارب روپے سے زائد منافع کمایا ہے۔ڈسٹری بیوٹرز کے مطابق فی کلوگرام ایل پی جی کی قیمت میں سرکاری نرخ اور مارکیٹ ریٹ کے درمیان فرق 270 سے 295 روپے تک پہنچ چکا ہے، جس کا براہ راست بوجھ گھریلو صارفین اور دیگر خریداروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

دکانداروں کا اوگرا کی کارروائیوں پر سوال
دوسری جانب ایل پی جی فروخت کرنے والے دکانداروں کا کہنا ہے کہ پیرا فورس اور دیگر متعلقہ ادارے ان کے خلاف کارروائیاں کررہے ہیں، تاہم ان کے بقول ایل پی جی پلانٹس کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جارہی۔دکانداروں کا مؤقف ہے کہ اگر انہیں پلانٹس سے ایل پی جی 525 روپے فی کلوگرام یا اس سے زیادہ قیمت پر ملے گی تو وہ اسے سرکاری نرخ 280 روپے فی کلوگرام پر کیسے فروخت کرسکتے ہیں؟ان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ سپلائی کے ابتدائی مرحلے پر قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے اور ایل پی جی پلانٹس سے لے کر ریٹیل دکانوں تک قیمتوں کے نظام کی نگرانی کی جائے۔

روزانہ کھپت 7 ہزار سے ساڑھے 7 ہزار ٹن؟
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں ایل پی جی کی روزانہ کھپت 7 ہزار سے ساڑھے 7 ہزار کلوگرام بتائی گئی ہے۔ تاہم اس مقدار کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، کیونکہ صوبے کی مجموعی روزانہ کھپت کے لیے یہ عدد غیر معمولی طور پر کم معلوم ہوتا ہے۔ڈسٹری بیوٹرز کے مطابق موجودہ قیمتوں کے فرق سے فی کلوگرام 300 روپے سے زائد منافع کمانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جس سے قیمتوں کے تعین اور تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

صارفین کو ریلیف کب ملے گا؟
ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور سرکاری نرخوں پر عمل درآمد نہ ہونے سے گھریلو صارفین، خصوصاً وہ خاندان جو کھانا پکانے کے لیے ایل پی جی استعمال کرتے ہیں، شدید متاثر ہورہے ہیں۔صارفین کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام سرکاری نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنائیں، غیرقانونی منافع خوری کے خلاف کارروائی کریں اور سپلائی کے تمام مراحل پر قیمتوں کی نگرانی بہتر بنائیں۔