گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبہ، وزیراعظم شہباز شریف کا چینی ماہرین کے ساتھ اہم اجلاس طلب

گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ سولر منصوبہ، وزیراعظم شہباز شریف کا چینی ماہرین کے ساتھ اہم اجلاس طلب

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ کے سولر منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت چینی ماہرین کے ساتھ اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔

 اجلاس میں منصوبے کی موجودہ صورتِ حال، عمل درآمد میں پیش رفت اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام سمیت مختلف امور پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کو گلگت بلتستان کے 100 میگاواٹ سولر منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ متعلقہ وفاقی وزراء اور اعلیٰ سرکاری حکام بھی اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ چینی ماہرین منصوبے کے تکنیکی پہلوؤں اور پیش رفت سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اجلاس کے دوران منصوبے کو آگے بڑھانے اور اس کی بروقت تکمیل کے حوالے سے اہم ہدایات جاری کریں گے۔ منصوبے میں بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم (BESS) کی سہولت بھی شامل ہے، جس کے ذریعے شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کو ذخیرہ کرکے ضرورت کے وقت استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

گلگت بلتستان میں شمسی توانائی کے اس منصوبے کا بنیادی مقصد علاقے میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانا اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہے۔ شمسی توانائی سے استفادہ کرنے کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے نظام کو متنوع بنانے اور روایتی توانائی کے ذرائع پر انحصار کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔بیٹری اسٹوریج سسٹم منصوبے کا اہم جزو ہے، کیونکہ شمسی توانائی کی پیداوار سورج کی روشنی اور موسمی حالات سے متاثر ہوتی ہے۔ توانائی ذخیرہ کرنے کی سہولت سے دن کے وقت پیدا ہونے والی بجلی کو محفوظ کرکے بعد میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے بجلی کی فراہمی میں بہتری لانے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کا انعقاد گلگت بلتستان میں توانائی کے مسائل حل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اجلاس میں سامنے آنے والی تجاویز اور وزیراعظم کی ہدایات منصوبے کے آئندہ مراحل کے لیے اہم قرار دی جا رہی ہیں۔