پٹرول مہنگا، کمپنیوں اور ریفائنریز کے وارے نیارے

 بہتر ریفائننگ مارجن، فروخت میں اضافہ اور مالیاتی اخراجات میں کمی منافع بڑھنے کی اہم وجوہات قرار
  اسلام آباد (  مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث شہریوں کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے، تاہم دوسری جانب آئل ریفائنریز، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور تیل و گیس تلاش کرنے والے اداروں کے منافع میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے سوال اٹھایا ہے کہ مہنگے ایندھن کے باوجود تیل کے شعبے کی کمپنیوں کی آمدن اور منافع کیوں بڑھ رہے ہیں۔ عارف حبیب لمیٹڈ کی سیکٹر رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں درج آئل ریفائنریز نے مجموعی طور پر تقریباً 54 ارب 80 کروڑ روپے کا بعد از ٹیکس منافع کمایا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں انہیں تقریباً 10 ارب 50 کروڑ روپے کا مجموعی نقصان ہوا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ریفائنریز کی آمدن میں اضافے کی اہم وجوہات بہتر ریفائننگ مارجن، پیٹرول اور ڈیزل کی پیداوار میں بہتری اور عالمی منڈی میں خام تیل کے مقابلے میں تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ ہیں۔ مارچ 2026 میں ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث ڈیزل اور پیٹرول کے ریفائننگ مارجن میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ دوسری جانب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے منافع کو بہتر مجموعی مارجن اور مالیاتی اخراجات میں کمی سے فائدہ پہنچا، جبکہ بعض تیل و گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں نے بھی فروخت میں بہتری اور دیگر آمدن کے باعث زیادہ منافع ظاہر کیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل نے مالی سال 2025-26 میں گروپ کی سطح پر تقریباً 25 ارب 49 کروڑ روپے کا بعد از ٹیکس منافع ریکارڈ کیا، جبکہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی کا منافع 242 ارب 37 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ معاشی ماہرین کے مطابق کمپنیوں کے منافع میں اضافہ بذات خود صارفین سے غیر قانونی طور پر زیادہ قیمت وصول کرنے کا ثبوت نہیں، کیونکہ مقامی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں، درآمدی اخراجات، شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور حکومتی فارمولے سمیت متعدد عوامل سے ہوتا ہے۔ تاہم قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار اور غیر معمولی ریفائننگ مارجن پر اٹھنے والے سوالات کے باعث ماہرین نے نظام میں شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ صارفین، حکومت اور تیل کی صنعت کے درمیان مالی فوائد اور اخراجات کی منصفانہ تقسیم ہوسکے۔