اسمبلی اجلاس میں شور شرابہ، رانا شہباز کا مقدمات پر احتجاج

اسمبلی اجلاس میں شور شرابہ، رانا شہباز کا مقدمات پر احتجاج

لاہور: پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان اپنے خلاف درج مقدمات پر سراپا احتجاج بن گئے۔

 اپوزیشن لیڈر رانا شہباز ایوان میں قرآن پاک اٹھا لائے اور کہا کہ ان پر 5 تھانوں میں دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔رانا شہباز نے مؤقف اپنایا کہ "میرے اوپر قائم مقدمات جعلی ہیں، حکومت سیاسی انتقام کے طور پر یہ کارروائیاں کر رہی ہے۔" ان کے اس اقدام پر ایوان کا ماحول شدید کشیدہ ہوگیا۔

قائم مقام اسپیکر کی برہمی اور ریمارکس
قائم مقام اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے قرآن پاک اٹھانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"آپ کو قرآن پاک کے تقدس کا خیال کرنا چاہیے، جو سپارہ آپ نے ہاتھ میں اٹھا رکھا ہے، کیا اسے پڑھنا بھی جانتے ہیں؟"ان کے ان ریمارکس پر ایوان میں شور شرابہ شروع ہوگیا۔

اپوزیشن ارکان کا استحقاق مجروح ہونے کا دعویٰ
اپوزیشن رکن معین قریشی نے کہا:"کوئی نہیں بتا سکتا کہ اسپیکر صاحب کا وضو ہے یا نہیں، یا قرآن پڑھنا آتا ہے یا نہیں۔ ہمارے استحقاق کو مجروح کیا گیا ہے۔"اس پر اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً ایوان کا ٹوکن بائیکاٹ کیا۔

وزیر قانون کی وضاحت اور پیشکش
وزیر قانون صہیب بھرتھ نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:"جن ممبران پر غلط مقدمات درج ہوئے ہیں، ان کا ریکارڈ دیکھا جائے گا۔ آٹھ ماہ سے اپوزیشن کے کسی رکن نے اس معاملے پر رابطہ نہیں کیا۔"انہوں نے مزید کہا:"اگر مقدمات واقعی جھوٹے ہیں تو بیٹھ کر میکانزم بنایا جائے گا، لیکن ایوان کو جذباتی رنگ دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔"